کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کے بعد امام جب سلام پھیرے تو اس کے بعد بآوازِ بلند کلمہ طیبہ پڑھنا کیسا ہے؟ اور حدیث میں ہے جو ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ آپﷺ ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند کلمہ پڑھا کرتے تھے تو اس پر عمل نہیں کیا جارہا، اس کے بارے میں آپ حضرات حدیث کی رُو سے وضاحت فرمائیں کہ تمام نمازی بآواز بلند پڑھیں، یا دل میں پڑھیں؟ آج کل جو لوگ بلند آواز میں کلمہ پڑھتے ہیں ان کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی جائے۔
تلاش کے باوجود مذکور روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، تاہم اگر سائل اس کا کوئی حوالہ کتاب، جلد، صفحہ کی تصریح کے ساتھ لکھ دے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، اور اگر یہ روایت ثابت بھی ہو تو بتصریحِ فقہاء و شارحینِ حدیث تعلیم پر محمول ہے، اس لیے اس کا بلند آواز سے پڑھنا مسنون نہیں ،خصوصاً اس وقت جب اس کے پڑھنے سے مسبوقین کی نماز میں خلل کا اندیشہ ہو جو کہ یقینی ہے۔
ففی فتح الباري: وفي السياق إشعار بأن الصحابة لم يكونوا يرفعون أصواتهم بالذكر في الوقت الذي قال فيه ابن عباس (إلی قوله) وقال النووي: حمل الشافعي هذا الحديث على أنهم جهروا به وقتا يسيرا لأجل تعليم صفة الذكر لا أنهم داوموا على الجهر به والمختار أن الإمام والمأموم يخفيان الذكر إلا إن احتيج إلى التعليم الخ (2/ 326) واللہ أعلم بالصواب