میں شادی شدہ ہوں ایک سال سے سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں میری بیوی میرے پاس تھی، مگر تین ماہ پہلے وہ پاکستان چلی گئی وہاں سے وہ سری لنکا گئی ، جہاں اس کی بہن رہتی تھی، سری لنکا سے اس نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ وہاں پر ریاض احمد گوہر شاہی کے عقائد کی پیروی کر رہی ہے اور اس وجہ سے وہ میرے ساتھ نہیں رہ سکتی اور طلاق چاہتی ہے مقامی علماء نے اس کو مرتد کہا ، کیونکہ اس نے گوہر شاہی کی پیروی کی میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرے نکاح کی اس کے ساتھ کیا حالت ہے؟
(۲)۔ اگر میں اس کو تین دفعہ طلاق دوں تو کیا وہ واقع ہوگئی، کیونکہ وہ مجھ سے تین مہینوں سے نہیں ملی اور کوئی تعلق بھی نہیں رہا۔
(۳)۔ اسلام میں اس کی اس حرکت پر کیا سزا ہوگی؟ اگر وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو میرے نکاح کی کیا حالت ہوگی۔
سائل کی بیوی اگر واقعۃً دین اسلام چھوڑ کر ارتداد اختیار کر لیا ہو تو سائل اور اس کے عزیز رشتہ داروں پر لازم ہے کہ اسے سمجھانے کی کوشش کریں اور دوبارہ سے اسے توبہ و استغفار کروا کر دین اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی فکر کریں اور اُسے دینداری والا ماحول فراہم کریں جہاں وہ علوم شرعیہ کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ اُن پر باسانی عمل بھی کر سکے۔
اور اگر باوجود سمجھانے کے وہ باز نہ آئے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے پھر اگر قاضی کے دعوت دینے پر وہ قبولِ اسلام کرلے تو بہرحال سائل کی بیوی ہے اسے دوبارہ سے نکاح کی بھی ضرورت نہیں، ورنہ قاضی ان میں تفریق کرادے اور یہ تفریق بحکم طلاق بائن ہوگی۔
اور اگر سائل اس کی مذکور حرکات کی بناء پر اسے طلاق دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے اور وہ جتنی ( ایک، دو یا تین) طلاقیں دینا چاہے وہ شرعاً بھی نافذ ہو جائیں گی اوراس پر وقتِ طلاق سے عدت گزارنا لازم ہوگا۔
ففی الدر المختار: وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر اھ(3/ 194) والله أعلم بالصواب!