کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص ذکر کرتے ہوئے کھجور کی گٹھلی پر تعداد شمار کرکے قرآن کی سورت وغیرہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا یہ درست ہے یا بدعت ہے؟ اکثر لوگ بیماروں کے لئے اس طرح کرتے ہیں۔
یہ کوئی شرعی حکم نہیں کہ ایسا کرنا ہی ضروری ہو اور اس کے خلاف ناجائز ہو بلکہ کسی بیمار کی صحت یابی یا کسی مشکل اور مصیبت سے نجات حاصل کرنے کیلئے دعا کرنے کا ایک طریقہ ہے جیسے دوسرے طریقوں سے دعا کرنا جائز اور مشروع ہے، اسی طرح کسی آیت کریمہ کا ورد کرکے دعا کرنا بھی جائز اور مشروع ہے، البتہ بزرگوں کا تجربہ ہے کہ آیت کریمہ {لا إلہ الّا انت سبحانک إنی کنت من الظٰلمین} کا ورد کرکے دُعا کی جائے تو قبولیت کی امید زیادہ اور مصیبت وغیرہ کے ٹلنے کا بھی ظن غالب رہتا ہے اور گٹھلیوں پر پڑھنا ایک مخصوص تعداد کے شمار میں آسانی کیلئے ہوتا ہے۔ واﷲ اعلم