جناب میرا داماد عیسائی مشرک ہو گیا ۔اور گستاخ رسول بھی ہے؟قرآن اور حدیث سے دلائل دیکر مجھے سمجھاتاہے کہ اسلام کی بنیاد غلط ہے ،ایسے آدمی کیلیے کیا سزاہے؟
مذہب اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذہب اختیار کر لینا اور کسی پیغمبر کی گستاخی کرنا بہت بڑا گناہ اور موجب قتل ہیں ، مگر اس کا اختیار عام عوام کو نہیں ،بلکہ حکومت وقت کو ہے ،اس لیے اولاً اہل ِ حکومت کو چاہیے کہ ایسے آدمی کے شبہات کو دور کرے اگر وہ اپنے اس باغیانہ طرزِ عمل سے باز نہ آئے ۔تو اسے قتل کی سزا دے سکتاہے ۔
فی اعلاء السنن : قال رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم "من بدل دینه فاقتلوہ إن اللہ لایقبل توبة عبد کفر بعد إسلامه " أخرجه الطبرانی فی "معجمۃ الکبیر"
قال العلامة العثمانی رحمه اللہ تحت ھذا الحدیث: إن استتابة الإمام فھو أحسن، فإن تاب و إلاقتل وممن قال ذلك ابو حنیفة وابویوسف و محمد رحمة اللہ علیھم اجمعین۔(ج12ص565)
و فی الفقه الاسلامی: وھی شرعاً:الرجوع عن دین الاسلام الی الکفر سواء بالنیة او بالفعل لمکفر او بالقول، سواء قاله استھزاءً او اعتقاداً (ج6ص173)
وفیه ایضا: اتفق العلماء علی وجوب قتل المرتد لقوله علیہ الصلاة والسلام "من بدل دینه فاقتلوہ" وقوله علیه الصلاة و السلام" لا یحل دم امرء مسلم الا باحدی الثلاث (إلی أن قال) و التارك لدینه المفارق للجماعة " و أجمع اھل العلم علی وجوب قتل المرتد (ج6ص186)
و فی النتف فی المفتاوی: من سب رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم فِنه مرتد وحکمه حکم المرتد ویفعل به مایفعل بالمرتد ۔ (ص427)
و فی الدر: (وکل مسلم ارتد فتوبة مقبولة الا) جماعة من تکررت ردته علی مامرو(إلی کافر بسب بنی) من الأنبیاء فأنه یقبل حدا ولاتقبل توبته مطلقا (ج4ص231)
و فی الشامیة: فھذا کلام الشفاء صریح فی أن مذھب أبی حنیفة و أصحابه القول بقبول التوبة کما ھو روایة الولید مالك الخ (ج4ص233) ۔
وفی الدر ایضا: (من ارتد عرض ) الحاکم (علیه الاسلام استحبابا) علی المذھب لبلوغه الدعوۃ (و تکشف شبھة ) بیان لثمرۃ العرض (و یحبس) وجوبا و قیل ندباً (ثلاثة أیام) یعرض علیه الاسلام فی کل یوم منھا خانیه (وان استمھل) (الی قوله) (فان اسلم ) فبھا (و الاقتل) ۔ (4ص225،226) و اللہ اعلم بالصواب!