کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس بارے میں کہ جنات کا لوگوں کو چمٹ جانا، ان کو پریشان کرنا، اس کی کیا حقیقت ہے؟ عرب علاقوں میں اور یورپ میں کسی کو جنات کی شکایت نہیں ہوتی یہاں ہر تیسرا چوتھا یہی شکایت لئے پھرتا ہے کیا وجہ ہے؟ کیا حدیث یا بعد کے اکابرین، فقہاء، محدثین کی کتابوں میں اس بارے میں کوئی تذکرہ ہے؟ سعد بن عبادہؓ کے علاوہ بھی کوئی روایت آتی ہے یا نہیں؟ امید ہے کہ باحوالہ جواب مرحمت فرمائیں گے۔
جنات کا کسی انسان کے ساتھ چمٹ جانا، اس کے بدن میں حلول کرجانا اور اسے پریشان وغیرہ کرنا یہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت اور ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار کرنا یا اسے تسلیم نہ کرنا قطعاً درست نہیں، لہٰذا کسی ایک علاقے کے لوگوں کے ساتھ ان کا عدم اختلاط یا ان کو پریشان نہ کرنا کسی دوسرے علاقہ میں ان کے عدم وجود کو مستلزم نہیں اور عام طور پر یہ غیر آباد وادیوں، پہاڑوں جنگلوں اور دیہاتوں میں بسیرا کرتے ہیں اور وہاں کے باشندے اکثر و بیشتر ان کے شرور سے محفوظ نہیں رہتے، خواہ وہ عرب ہوں یا عجم جیسا کہ درجِ ذیل حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہورہا ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اپنی تفسیر بیان القرآن میں آیت {وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطَانْ} کے تحت لکھا ہے کہ یہ حصر محققین کے نزدیک باعتبار اِضلال کے ہے یعنی گمراہ کرنے میں اس سے زیادہ زور نہیں چلتا کہ اغوا کردے یہ نہیں ہوسکتا کہ جبراً کسی کو گمراہ کردے پس اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ شیاطین کوئی دوسری مضرت انسان کو نہ پہنچاسکیں، بلکہ نصوص اور مشاہدات سے اس کا امکان اور وقوع ثابت ہے کہ بعض امراض میں شیاطین کو دخل ہوسکتا ہے وہ بے ہوش کرسکتے ہیں وہ آدمی کو اُٹھا لیجا سکتے ہیں۔
فی حیاۃ الحیوان: روی الشافعی والبیہقی فی الحدیث ان رجلا من الانصار رضی اﷲ عنہم خرج یصلی العشاء قسبتہُ الجن وفُقِدَ اَعْوَامًا وتزوجت زوجتہ۔ ثم اتی المدینۃ فسألہٗ عمر ؓ عن ذلک فقال اختطفتنی الجن فلبثتُ فیہم زمانًا طویلًا فَغَزَاھُمْ جنٌ مومنون وقاتلوہم فاظفرہم اﷲ تعالیٰ علیہم وسبوا منہم سبایًا وسبونی معہم فقالوا نراک رجلا مسلمًا ولا یحل لنا سباؤک فخیرونی بین المقام عندہم والقفول إلی اہلی؟ فاخترت اہلی فأتوا۔ الخ فاتوا بی إلی المدینۃ۔ (ج۱، ص۲۹۱)
اور ان کا انسانی بدن میں حلول کرجانا بھی ثابت ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔
آکام المرجان فی غرائب الاخبار واحکام الجان میں مذکور ہے:
قال الشیخ ابو العباس رحمہ اللہ: أصرع الجن للانس قد یکون عن شہوۃ وہوی عشق (الی قولہ) وقد یکون عن بغض ومجازاۃ مثل ان یوذیہم بعض الانس أو یظنوا انہم یتعمدوا آذاہم إما ببول علی بعضہم واما بصب ماءحارٍ واما بقتل بعضہم وان کان الانس لا تعرف ذلک وفی الجن ظلمٌ وجھلٌ فیعاقبونہ باکثر ممّا یستحقہ۔ الخ (ص۱۰۶)-
اور اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ یہ انسانی بدن میں حلول کرتے ہیں۔
عن ابی الحسن الاشعری قال: انہم یقولون ان الجن تدخل فی بدن المصروع۔ (حوالہ مذکورہ) واﷲ اعلم