کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر کو مائل کرنے کیلئے عاملوں سے تعویذات لکھوانا جبکہ ان تعویذات میں ’’یَا بَدُوْحُ‘‘ جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس لفظ کے معنی کیا ہیں؟ اور اس قسم کے الفاظ تعویذات میں استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ از روئے شریعت کیا حکم ہے؟
شوہر کو مائل کرنے کیلئے عاملوں سے تعویذ لکھوانے سے غرض اگر شوہر کو مسلوب الاختیار کرنا ہو تو اس کو فقہاءِ امت نے ناجائز قرار دیا ہے اور عاملوں سے ایسے تعویذ لکھوانا جس کے الفاظ شرکیہ یا موہمِ شرک ہوں ،سخت ناجائز ہے۔
سوال میں مذکور لفظ ’’یَا بَدُوْحُ‘‘ یہ عربی زبان کا لفظ نہیں بلکہ عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اگر عربی زبان قرار دیا جاوے تو اس کے معنی "عاجز کرنے والا "کے ہیں، بہر صورت جب یہ خدا کا نام ہوا تو ایسے الفاظ کو تعویذ میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
قال في الخانية امرأة تصنع آيات التعويذ ليحبها زوجها بعد ما كان يبغضها ذكر في الجامع الصغير أن ذلك حرام ولا يحل اه
وذكر ابن وهبان في توجيهه أنه ضرب من السحر والسحر حرام اه ط
ومقتضاه أنه ليس مجرد كتابة آيات بل فيه شيء زائد
قال الزيلعي وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه أنه قال سمعت رسول الله يقول إن الرقى والتمائم والتولة شرك رواه أبو داود وابن ماجه
والتولة أي بوزن عنبة ضرب من السحر
قال الأصمعي هو تحبيب المرأة إلى زوجها
وعن عروة بن مالك رضي الله عنه أنه قال كنا في الجاهلية نرقى فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال عرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيها شرك رواه مسلم وأبو داود اه
وتمامه فيه
وقدمنا شيئا من ذلك قبيل فصل النظر وبه اندفع تنظير ابن الشحنة في كون التعويذ ضربا من السحر ( 6 ص 429 )