ارتداد

تعویذ کے متعلق چند سوالات

فتوی نمبر :
58841
| تاریخ :
2008-02-20
عبادات / عملیات و اذکار / ارتداد

تعویذ کے متعلق چند سوالات

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ (۱) کیا قرآنی آیات پر مشتمل تعویذات جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ قرآنی آیاتِ کریمہ کے تعویذات بھی ناجائز ہیں اور ناجائز قرار دینے والوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ شامل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے علماءِ کرام قرآنی آیات والے تعویذ کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ حنبلی مسلک والے اس کو ناجائز کہتے ہیں اب اوّل بات یہ پوچھنی ہے کہ جو جائز سمجھتے ہیں وہ کون سی حدیث یا کون سی روایت سے استدلال کرتے ہیں؟ مہربانی کرکے یہ بھی بتادیں کہ وہ حدیث یا روایت مستند ہے یا نہیں؟
دؤم یہ کہ اگر جائز نہیں تو ناجائز قرار دینے والے کون سی روایت سے استدلال کرتے ہیں؟ جائز قرار دینے والوں کی روایت مستند ہے یا ناجائز قرار دینے والوں کی مستند ہے؟
(۲) اگر ناجائز ہیں تو کیا یہ وہ شرک ہے جس کو اللہ تعالیٰ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا؟ (میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ناجائز ہے تو یہ تعویذ جس نے کی ہو یا جس نے پہنی ہو کیا وہ کبھی بھی جنت میں نہیں جائے گا؟
(۳) ہمارے یہاں ایک مولانا صاحب ہیں جو تعویذ وغیرہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا علم ہے کہ نہیں ؟ وہ مولانا صاحب بریلوی بھی نہیں ہیں ان کا تعلق اپنے مسلک یعنی دیوبند سے ہے۔
اوّل یہ کہ وہ مریض کا نام اور اس کی والدہ کا نام پوچھتے ہیں اور پھر کچھ نمبر لکھ کر اپنے حساب سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ اس مریض پر کسی نے کوئی تعویذ یا اس پر کوئی جنات کا اثر تو نہیں ہے، اگر میڈیکل کی بیماری ہو تو اسے کہتے ہیں کہ آپ پر جنات کا اثر ہے اور نہ ہی کسی نے تعویذ وغیرہ کی ہے تو کیا ایسا کوئی علم ہے؟
دؤم یہ کہ کیا ایسا کوئی علم ہے جو مریض کا نام اور اس کی والدہ کا نام لکھ کر یہ معلوم کرے کہ اس پر کوئی بیماری ہے یا جنات کا اثر ہے؟
سومؔ یہ کہ جب وہ کسی کا علاج کرتے ہیں تو وہ اسے ایک تعویذ دیتے ہیں اور ایک صفحے پر صرف ’’ع‘‘ جیسے الفاظ لکھ کر اس مریض کو دے کر کہتے ہیں کہ اسے بتی بناکر جلاؤ، کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
چہارم یہ کہ کیا اس کا کیا ہوا تعویذ درست ہے یا نہیں؟
مجھے امید ہے کہ مجھے تمام سوالات کے جوابات شرعی اصولوں کے مطابق بھیج دیئے جائیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱،۲) واضح ہو کہ نصوصِ شرعیہ میں جن تعویذات سے منع کیا گیا ہے ان سے مراد وہ تعویذات ہیں جو زمانہ جاہلیت میں شرک پر مبنی کلمات سے ناجائز مقاصد کیلئے دیئے جاتے تھے حالانکہ رُقْیہ بالقرآن کی اجازت ہے ’’کما فی قصۃ اللدیغ الذی رقاہ الصحابۃ واخذوا علیہ اجرا من الغنم‘‘ پس اگر حنبلی مسلک والے اس سے منع کرتے ہوں تو وہ کسی دوسرے عارض کی بناء پر ،مثلاً عوام کا عقیدہ خراب ہونے کا اندیشہ ہو کہ وہ تعویذ وغیرہ کو مؤثر بالذات سمجھنے لگیں گے، جبکہ ایسی صورتِ حال میں تو عند الاحناف بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی اور دیگر ائمہ بھی اس کے قائل ہیں، چنانچہ اس سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ قرآنی آیات، اسماء و صفاتِ الٰہی اور ادعیۂ ماثورہ کے ذریعے تعویذات کرنا جائز اور درست ہے بشرطیکہ اسے مؤثر حقیقی نہ سمجھا جائے اور اسکے معنیٰ بھی معلوم ہوں، نیز جس روایت کی رو سے عبداللہ بن مسعودؓ کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ وہ ماسوا معوذتین کے تعویذات کو مکروہ بتلاتے تھے اس کی سند میں کلام ہے جیسا کہ ذیل میں دی گئی عبارت سے واضح ہے۔
فی الصحیح للبخاری: عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا ان النبی ﷺ کان ینفث علی نفسہ فی المرض الذی مات فیہ بالمعوذات فلما ثقل کنت انفث علیہ بہنّ وامسح بیدہ نفسہ لبرکتہا فسالت الزہری کیف ینفث قال کان ینفث علی یدیہ ثم یمسح بہما وجہہ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)-
وفیہ ایضًا: عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت امرنی النبی ﷺ او أمر ان یسترقٰی من العین۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)-
وفی فتح الباری: عن ابن مسعود ان النبی ﷺ کان یکرہ عشر خصال فذکر فیہا الرقٰی الا بالمعوذات، وعبد الرحمن بن حرملہ قال البخاری لا یصح حدیثہ وقال الطبری لا یحتج بہذا الخبر لجہالۃ راویہ وعلی تقدیر صحتہ فہو منسوخ بالاذن فی الرقیۃ بفاتحہ الکتاب۔ الخ (ج۱۰، ص۲۳۹۔۲۴۰)-
وفی شرح المسلم للنووی: اما الرقٰی باٰیات القرآن وبالاذکار المعروفۃ فلا نہی فیہ بل ہو سنۃ (الٰی قولہ) وقد نقلوا الاجماع علی جواز الرقٰی بالاٰیات واذکار اﷲ قال المازری جمیع الرقٰی جائزۃ اذا کانت بکتاب اﷲ تعالٰی او بذکرہ ومنہی عنہا اذا کانت باللغۃ العجمیۃ أو بما لا یدری معناہ لجواز ان یکون فیہ کفرٌ۔ اھـ (ج۲، ص۲۱۹)-
وفی فتح الباری: وقد أجمع العلماء علی جواز الرقٰی عند اجتماع ثلٰثۃ شروط ان یکون بکلام اﷲ تعالٰی او باسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی او بما یعرف معناہ من غیرہ وأن یعتقد أن الرقیۃ لا تؤثر بذاتہا بل بذات اﷲ تعالیٰ۔ (ج۱۰، ص۲۴۰)-
وفی المرقاۃ: ولا یکرہ منہا ما کان علی خلاف ذالک کالتعوذ بالقرآن واسماء اﷲ تعالٰی۔ الخ (ج۸، ص۳۰۲)-
وفی رد المحتار: اقول الذی رأیتہ فی المجتبی التمیمۃ المکروہۃ ما کان بغیر القرآن وقیل ہی الخرزۃ التی تعلقہا الجاہلیۃ (الٰی قولہ) ولا بأس بالمعاذات اذا کتب فیہا القرآن او اسماء اﷲ تعالٰی (إلٰی أن قال) وإنما تکرہ العوذۃ اذا کانت بغیر لسان العرب ولا یدری معناہ ولعلہ یدخلہ سحر وکفر أوغیر ذالک وأما ما کان من القراٰن او شییء من الدعوات فلا بأس بہ۔ (ج۶، ص۳۶۳)-
(۳) اس کے بعد واضح ہو کہ مولانا صاحب موصوف کا مذکور طرزِ عمل جس میں وہ مریض اور اس کی والدہ کا نام معلوم کرکے مختلف ہندسوں کے جمع و تفریق اور تقسیم سے مریض کی تشخیص کرتے ہیں یہ کوئی یقینی اور صحیح طریقۂ تشخیص نہیں کیونکہ اس طرح کسی مریض کے علاج کے بعد بھی اس کے نام اور حسب سابق مختلف ہندسوں کے جمع و تفریق سے اسی پہلے مرض کی ہی تشخیص ممکن ہے اور اس طرح یہ مریض ان کے علاج سے کبھی چھٹکارا نہیں پاسکے گا، اسی طرح ان تمام افراد کیلئے بھی یہی مرض تشخیص ہوگا جن کا اپنا اور ان کی والدہ کا نام اس پہلے مریض کے نام پر ہو یہ محض عوام الناس کو دھوکہ دینے اور ان کے عقائدو نظریات خراب کرنے کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اس علم اور اس کے قریب تر علم کو ’’علم عرّاف‘‘ کہا جاتا ہے جو محض بعض علامات وامور سے اندازہ لگانے پر مبنی ہوتا ہے، ایسے شخص کی باتوں پر عمل کرنے سے ایسے ہی منع کیا گیا ہے جیسے کاہن کی باتوں پر عمل کرنے سے، لہٰذا مولوی صاحب موصوف کو چاہئے کہ آیاتِ قرآنیہ کے ذریعہ لوگوں کا علاج کریں اور مذکور طرزِ عمل ترک کردیں۔
فی المشکوٰۃ: وعن حفصۃ قالت قال رسول اﷲ ﷺ من اتٰی عرّافًا فسالہ عن شیء لم یقبل لہ صلوٰۃ اربعین لیلۃ۔ (رواہ مسلم: ج۲، ص۳۹۳)-
جبکہ جنات کے بھگانے سے متعلق اگر وہ واقعۃً علم رکھتے ہوں اور اسی کے موافق فلیتہ وغیرہ دیتے ہوں تو انہیں جلانے اور اس کے موافق عمل کرنے میں شرعاً بھی کوئی قباحت نہیں۔واﷲ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58841کی تصدیق کریں
0     1141
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا ہرمرتدواجب القتل ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • مرتد ہونے کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • رزق میں برکت کا وظیفہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • مرتد عورت کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • شادی اور نکاح کیلۓ اسلام قبول کرکے کفر اختیار کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ ترقئی کاروبار

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے کی سزا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • دعا میں درود شریف کو حمد وثناء پر مقدم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ، دم، درود وغیرہ کا احادیثِ مبارکہ سے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • ذکر و اذکار کی مجلسیں قائم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • بائیں ہاتھ پر تسبیحات کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • درود تاج پڑہنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت اسلام میں

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ مرض بال خورہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اذکار و اوراد میں گنتی کیلۓ کجھور کی گھٹلیوں کا استعمال

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • مرتد اورگستاخِ رسول کی سزا کیا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • فرض نماز کے بعد کلمہ طبیہ باآواز بلند پڑھنا

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • غیر مسلم سے منتر پڑھواکر دم کروانا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • درود و سلام سے کیا مراد ہے جس کا قرآن میں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • عیسائیت اختیار کرنے کے بعد دو بارہ اسلام کی طرف آنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • نجومی کو ہاتھ دکھانے اور قسمت وغیرہ کے پوچھنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • عملیات سے علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • جنات کی حقیقت اور ان کا جسمِ انسانی میں حلول

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • استخارہ کون کرے اور کیسے کرے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
Related Topics متعلقه موضوعات