دو دوستوں نے مل کر ایک زرعی زمین ٹھیکے پر لی،3سال کیلئے،%50 سرمایہ دونوں نے لگایا،ایک نے صرف پیسے لگائے،دوسرا اس میں محنت بھی کرتا تھا، تومنافع40۔60کے حساب سے رکھا،جس سے زمین لی گئی ہے،اس کے علم میں یہ نہیں کہ دو دوستوں نے مجھ سے مل کر زمین لی ہے،وہ یہ جانتا ہے کہ میرا ایگریمنٹ صرف ایک آدمی سے ہے،اب زمین کا مالک ٹھیکہ ایک سال کیلئے مزید بڑھانا چاہتا ہے،نئے شرائط کے ساتھ،کچھ رقم بڑھا کر، تو جن دو دوستوں نے مل کرپہلے یہ ٹھیکہ لیا تھا،ایک ان میں سے یہ چاہتا ہے کہ اب وہ یہ ٹھیکہ اکیلے لے لے،بغیر کسی شرکت کے،توکیا یہ اس کیلئے جائز ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں تین سال مکمل ہونے پر مالکِ زمین اور کرایہ دار کے درمیان زمین کی کرایہ داری کا معاملہ ختم ہوجائے گا،چنانچہ اس کے ساتھ مذکور دونوں دوستوں کے درمیان ٹھیکہ داری کے معاملے میں شرکت بھی ختم ہوجائے گی،اس کے بعد مالکِ زمین کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرنے کا مکمل اختیار ہوگا،چنانچہ باہمی رضامندی سے جس کے ساتھ بھی معاملہ طے ہوجائے، تو ایسی صورت میں دوسرے کو اعتراض کا یا دعوی کا شرعاً کوئی حق نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار: وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة اھ(ج6/ص5)۔
وفیه ایضاً: باب الإجارة الفاسدة (الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما ابن كمال (الیٰ قوله) (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) اھ(46/6)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0