میں نے ایک ادارے میں نوکری کی درخواست دی جو انہوں نے قبول کر لی، پھر انہوں نے باہمی مشاورت سے مجھے اس ادارے کے شعبہ تصنیف میں رکھ لیا، کیونکہ مجھے کمپوزنگ، پروف ریڈنگ ، ترجمہ اور تحقیق وغیرہ میں مہارت تھی، مگر معاہدے میں یہ طے نہیں پایا کہ مجھے ایک ماہ میں کیا کیا کام کرنا ہے، بس وقت طے ہوا، تنخواہ طے ہوئی اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو جو کام دیا جائے گا وہ کر دیجیے گا؟ میں نے اس ادارے میں عرصہ پانچ سال میں درجِ ذیل خدمات انجام دیں : (1) تدریس (2) کپوزنگ (3) پروف ر نگ (4) کچھ کتب کے ترجمے کیے (5) کچھ کتابیں مکمل طور پر تصنیفی شکل میں مرتب کیں؟ (تصنیف اس لئے کہ ان میں نظمیں ، کہانیاں اور کھیل وغیرہ میرے ذاتی تخلیقی کام تھے ) (6) مزید متفرق کام ، جو ادارے والے کرواتے تھے جیسے فلاں سے ملاقات کر لیں، فلاں جگہ جاکر ادارے کی کتابوں کا تعارف کروائیں , فلاں کو کمپوزنگ، پروف ریڈنگ وغیرہ سکھائیں، فلاں بزرگ کی فلاں خدمت کریں وغیرہ ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں میں نے جو کتابیں تالیف یا تصنیف کر کے ادارے کو دی ہیں ان کا حقِ تصنیف مجھے ملنا چاہئیے یا نہیں ؟ یہاں دو امور مزید واضح کردوں کہ :
(1) میرے ساتھ کام کرنے والوں نے اتنی زیادہ مقدار میں یہ کتب نہیں لکھی تھیں -
(2) اگر میں یہ کتا بیں نہ لکھتاتب بھی مجھے کچھ ملامت نہ کی جاتی، کیونکہ یہ اضافی تخلیقی کام تھا , مثلاً اگر ادارے نے مجھے ایک کتاب کا ترجمہ کرنے کا کام دیا تو وہ کام میں ایک ماہ یا ایک سال میں بھی کر سکتا تھا، مگر بعض کتب کے ترجمے میں نے ایک ایک دن میں کر کے دیے، اسی طرح بعض تخلیقی کتب میں نے رات رات بھر جاگ کر لکھی تھیں، جبکہ تنخواہ صرف محدود وقت ( صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک) کی دی جاتی تھی-
3۔ میرا ادارے سے یہ مطالبہ ہے کہ آپ جو میری کتا بیں شائع کر کے فروخت کر رہے ہیں ہر ایڈیشن میں سے مجھے دس فیصد کتب یا ان کی رقم ادا کریں , ادارے کے اربابِ اختیار نے مجھ سے فتوے کا مطالبہ کیا ہے ؟ ادارہ چھوڑے ہوئے مجھے پانچ سال ہو چکے ہیں، اربابِ اختیار کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس ساری رقم وقف کی ہے، اس لئے اگر فتوی یہ آجاتا ہے کہ آپ یہ حقِ تصنیف لے سکتے ہیں تو ہم ادا کر دیں گے ؟ اب آپ سے شریعتِ مطہّرہ کی روشنی میں راہ نمائی مطلوب ہے-
سائل نے دوران ملازمت جو تصنیفی اور تالیفی کام کیے ہیں ، ان میں سائل نے اگر چہ ملازمت کے اوقات کے علاوہ اپنا اضافی وقت بھی صرف کیا ہو، لیکن چونکہ اس نے یہ کام ادارے کے نام سے اور ادارے ہی کے لیے کیا ہے ، لہذا یہ ادارے کے ساتھ اس کی طرف سے احسان شمار ہو گا، اور مذکور کتابوں کی تصنیف کا حق بدستور ادارے ہی کے پاس رہے گا، اور ایسی صورت میں سائل کو ادارے سے حقِ تصنیف یا مذکور کتب یا ان کی آمدنی میں سے دس فیصد کے مطالبے کا حق بھی حاصل نہیں، تاہم ادارہ اگر سائل کی خدمات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اسے کچھ دینا چاہے، تو اسے اس کا اختیار حاصل ہے۔
كما في سنن أبي داود للسجستاني: 3596 - حدثنا سليمان بن داود المهرى أخبرنا ابن وهب أخبرنى سليمان بن بلال ح وحدثنا أحمد بن عبد الواحد الدمشقى حدثنا مروان - يعنى ابن محمد - حدثنا سليمان بن بلال أو عبد العزيز بن محمد - شك الشيخ - عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « الصلح جائز بين المسلمين ». زاد أحمد « إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا ». وزاد سليمان بن داود وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « المسلمون على شروطهم ». (3/ 332) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0