جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں کو رونا وائرس کو قابو کرنے کے لیے بہت ساری مساجد مکمل طور پر بند کی گئی ہیں، اور اس کے جواز کے لیے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے :
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ہوا والی سرد، رات میں نماز کے لیے اذان دی، پھر فرمایا: اے لوگو! ٹھکانوں پر نماز پڑھو، پھر فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو اذان دینے کا حکم دیتے تھے ،سردی اور بارش والی رات میں، فرماتے تھے اے لوگو! ٹھکانوں پر نماز پڑھو۔
میرے خیال میں یہ حدیث نماز کے بارے میں ہے، نہ کہ مسجد کو بند کرنے کے بارے میں، نیز یہ حکم ان صحابہ کے لیے تھا جو مسجد نبوی سے کچھ دور رہتے تھے، ورنہ ان کے پاؤں گیلی ریت سے لتھڑے ہوئے ہوتے، جبکہ مسجد کے اندر ایسی حالت میں نہیں داخل ہونا چاہیے، کچھ اور احادیث اور تاریخی روایات کے مطابق حضور ﷺ اور دیگر صحابہ کے گھر مسجد کے برابر میں تھے، اس وجہ سے مسجد میں جماعت کے ساتھ نمازیں ہوتی تھیں، لیکن یہ حکم ان صحابہ کے لیے تھا، جو دور رہتے تھے ، موسم کی وجہ سے وہ اس واجب عمل سے مستثنی کئے گئے تھے۔ میں یہ بات نہیں سمجھتا ہوں کیسے مساجد کو بند کرنے کے جواز کے لیے یہ حدیث استعمال کی جاسکتی ہے۔
جی ہاں! مذکور حدیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے تیز بارش یا آندھی طوفان کے موقع پر مسجد سے دور دراز رہنے والے مسلمانوں کو جماعت میں شامل ہونے سے مستثنیٰ قرار دیکر گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، لیکن اس حدیث مبارکہ سے مساجد کو مکمل طور پر بند کر کے اس میں نمازیں موقوف کرنے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر: أنه أذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح ثم قال ألا صلوا في الرحال ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر المؤذن إذا كانت ليلة ذات برد ومطر يقول: «ألا صلوا في الرحال» متفق عليه. (1/ 333)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (في ليلة ذات برد وريح) : و في باب الأذان: (أذن ابن عمر) يفهم منه أن أذن صيغة المعروف اهـ. وهو يحتمل أنه أذن بنفسه، أو أمر المؤذن بالتأذين (ثم قال) أي: بعد فراغ الأذان (ألا) : بالتخفيف للتنبيه (صلوا في الرحال) أي في البيوت والمنازل، قال الطيبي، أي: الدور والمساكن، رحل الرجل منزله ومسكنه. (ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر المؤذن إذا كانت) أي: وقعت (ليلة) : بالرفع (ذات برد) : صفتها أي: صاحبة برد شديد (ومطر) أي كثير، و في رواية للشافعي زيادة وريح (يقول: " ألا صلوا) : أمر إباحة (في الرحال) : للعذر، قال ابن الهمام، عن أبي يوسف: سألت أبا حنيفة عن الجماعة في طين وردغة، أي: وحل كثير؟ فقال: لا أحب تركها، وقال محمد في الموطأ: الحديث رخصة يعني قوله عليه السلام: " «إذا ابتلت النعال فالصلاة في الرحال» ". (3/ 834)