کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ دینِ اسلام پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ اور دشمنوں کی گردنوں کو اُڑا دو ،تمہیں جنت عطاء کی جائے گی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس حدیث ِمبارک کا مطلب کیا ہے؟ اور اس حدیث میں دشمنوں کی گردنوں کو اُڑادو کی وضاحت چاہیے بمع حوالہ اور سند کے ۔ اللہ آپ حضرات کو جزاءِ خیر عطاء فرمائے۔
سوال میں جس حدیث کے متعلق وضاحت طلب کی گئی، اس جیسی حدیث جامع الترمذی جلد ثانی کے ’’ابواب الأطعمۃ‘‘ میں موجود ہے، جو مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ مروی ہے، لیکن اس حدیث میں سلام کے پھیلانے کا حکم ہے نہ کہ دین اسلام پھیلانے کا ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور (کافروں کے) سروں کو مارو تم جنتوں کے وارث بنا دئیے جاؤ گے۔
حدیثِ مذکور میں سروں کو مارنے سے مراد ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ہے۔
حدثنا يوسف بن حماد المعني البصري قال: حدثنا عثمان بن عبد الرحمن الجمحي، عن محمد بن زياد، عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، واضربوا الهام، تورثوا الجنان» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وأنس، وعبد الله بن سلام، وعبد الرحمن ابن عائشة، وشريح بن هانئ، عن أبيه: هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن زياد عن أبي هريرة۔(۲/ ۷)-
وفی مرقاة المفاتيح: تحت هذا الحدیث (واضربوا الهام) : جمع هامة بالتخفيف وهو الثاني: أي: اقطعوا رءوس الكفار وهو كناية عن الجهاد في الإسلام (إلی قوله) قال القاضي: المراد بضرب الهام الجهاد الخ (6/ 2475)-