کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حدیث شریف میں عموم کے ساتھ وارد ہوا ہے ’’سلوا اللہ العافیۃ‘‘ جبکہ دُرِّمختار میں علامہ حصکفیؒ نے نقل فرمایا ہے: ’’ویحرم سؤال العافیۃ مدی الدھر‘‘ اس عبارت کی مراد کو واضح فرما کر اشکال رفع فرمائیں۔
حدیث پاک کے الفاظ ’’سلوا اللہ العافیۃ‘‘ اور علامہ حصکفیؒ کی عبارت میں کوئی تعارض نہیں۔ علامہؒ نے جس سوال (دعا) کو ناجائز کہا ہے، اس سے مراد ایسی اشیاء کے بارے میں سوال ہے جن کا وقوع عادۃً محال ہو، (مثلاً اس طرح دعا کرنا کہ پوری عمر اس طرح عافیت ملے کہ تمام قُویٰ اور اعضاء بالکل ٹھیک رہیں، کوئی بیماری اور کمزوری لاحق نہ ہو تو یہ عادۃً محال ہے، اور عادۃً محال شئی مانگنا درست نہیں ہے، جیسا کہ کوئی شخص شادی کیے بغیر اللہ تعالیٰ سے اولاد مانگے) اور دعا کو قیود وشروط کے ساتھ مقید و مشروط کرنا، جس کی حدیث شریف میں بھی ممانعت آئی ہے۔ جبکہ حدیث میں عافیت کا سوال مطلقاً ہے نہ اس میں کسی عادۃً محال شئی کا سوال ہے اور نہ ہی قیود و شروط کے ساتھ مقید ومشروط ہے۔
ففی الدر المختار: ويحرم سؤال العافية مدى الدهر اھ
وفی حاشية ابن عابدين: تحت(قوله ويحرم سؤال العافية مدى الدهر )(إلى قوله) والحق هو أيضا من كلام القرافي المالكي، نقله عنه في النهر، ونقله أيضا العلامة اللقاني في شرح جوهرة التوحيد فقال: الثاني من المحرم أن يسأل المستحيلات العادية وليس نبيا ولا وليا في الحال: كسؤال الاستغناء عن التنفس في الهواء ليأمن الاختناق، أو العافية من المرض أبد الدهر لينتفع بقواه وحواسه أبدا. إذا دلت العادة على استحالة ذلك، أو ولدا من غير جماع، (إلی قوله) أو ما كان مستحيلا فإنه من الاعتداء في الدعاء، وقد قال الله تعالى ﴿ادعوا ربكم تضرعا وخفية إنه لا يحب المعتدين﴾ (الأعراف: 55).
وروي عن عبد الله بن مغفل - رضي الله تعالى عنه - أنه سمع ابنه يقول: اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها، فقال: يا بني سل الله الجنة وتعوذ به من النار، فإني سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول «سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور والدعاء» . (1/ 522)-