کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ تبلیغی جماعت والے ایک فضیلت بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک نماز پڑھنے پر انچاس کروڑ نمازوں کا ثواب ملتا ہے، ایسے ہی جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی جان پر ایک روپیہ خرچ کرتا ہے، اسے سات لاکھ روپے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے، آیا ان کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے ؟
درجِ ذیل دونوں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مذکور ثواب کا ثبوت اگرچہ اوّلاً جہاد اور غزوہ میں نکلنے سے متعلق ہے ،مگر حدیث میں مذکور لفظ فی ’’سبیل اللہ‘‘ عام ہونے کی وجہ سے دوسرے امورِ دینیہ کو بھی متضمن ہے، اس لۓ تبلیغی جماعت میں نکلنے سے متعلق بھی اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے اور بلاشبہ جائز ہے۔
فی سنن ابن ماجة : عمران بن الحصين كلهم يحدث عن رسول الله -صلى الله عليه و سلم- أنه قال : (من أرسل بنفقة في سبيل الله و أقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم . و من غزیٰ في سبيل الله و أنفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم) ثم تلا هذه الآية ﴿والله يضاعف لمن يشاء﴾ (2/198)۔
و فی بذل المجہود : عن سھل بن معاذ عن ابیه قال قال -علیه السلام- ان الصلاة و الصیام و الذکر یضاعف علی النفقة فی سبیل اللہ عز و جل بسبعمأة ضعف اھ(4/200)۔