حدیث کے معانی و مطالب

مختلف احادیث کی فقہی تشریح

فتوی نمبر :
58902
| تاریخ :
1995-02-02
قرآن و حدیث / تحقیق و تخریج حدیث / حدیث کے معانی و مطالب

مختلف احادیث کی فقہی تشریح

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ درجِ ذیل احادیث کی فقہی تفسیر کیا ہے؟
(۱) معاذ بن جبل ؓسے روایت ہے کہ: ’’ہم جنگِ تبوک کے لئے حضور ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے شام کیا کہ آپ نے دوپہر اور بعد از دوپہر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ ادا کیں‘‘۔ (ابو داؤد: ۱۷۰)-
(۲) ابو سعید الخدریؓ سے روایت ہے کہ : ’’لوگوں نے پیغمبرِ خدا ﷺ سے پوچھا کہ ہم بدھا کے کنواں سے وضو کرسکتے ہیں اسی کنواں میں گندے کپڑے مرے ہوئے کتے اور بدبودار چیزیں پھینکی جاتی ہیں، آپ نے فرمایا پانی پاک ہے، یہ کسی چیز سے نجس نہیں ہوتا‘‘۔ (ابو داؤد: ص۹)-
(۳) ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ: ’’نگین نجاشی نے حضور ﷺ کو دو کالے اور سادہ موزے پیش کئے انہوں نے وہ پہنے وضو کیا اور ان پر مسح کیا‘‘۔ (ابو داؤد: ص۲۱)-
(۴) المغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ: ’’میں پانی ڈال رہا تھا اور حضور ﷺ وضو فرمارہے تھے تبوک کی جنگ کے موقع پر، آپ نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا‘‘۔ (ابو داؤد: ۲۲)-
(۵) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ: ’’شروع میں پچاس نمازیں تھیں، غسل کو سات بار واش کرنا ضروری تھا، اور پیشاب کے کپڑے کو سات بار پاک کرنا ضروری تھا اللہ تعالیٰ پیغمبر عبادت کرتے رہے اور نمازیں پانچ تک کم کردی گئیں، غسل میں ایک بار اور پیشاب کے کپڑوں کو بھی ایک بار دھونا قرار دیا گیا‘‘۔ (ابو داؤد: ص۳۳)-
(۶) حضرت علیؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ: ’’بچی (لڑکی) کا پیشاب دھونا چاہئے اور بچہ (لڑکا) کا پیشاب جھٹکنا چاہئے جب تک بچہ کھانے لگ جائے۔ (ابو داؤد: ص۵۴)-

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱)- قرآن کریم کی صریح آیات جو قطعی الثبوت والدلالۃ ہیں ان میں ہر نماز کو اپنے اپنے وقت مقررہ پر پڑھنے کا حکم اور ترغیب دی گئی ہے (جیسا کہ ذیل میں آیاتِ کریمہ بھی ذکر کردی گئی ہیں) ان آیات کے مقابلے میں ان احادیث (اخبار آحاد) پر عمل کرنا (جو قطعی الثبوت نہ ہونے کے ساتھ ان میں توجیہ بھی ممکن ہے) اصولِ حدیث کے خلاف ہے نیز جمع بین الصلوٰتین کے وہ تمام واقعات جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں اُن میں جمع حقیقی مراد نہیں بلکہ جمع صوری مراد ہے جیسا کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کا مسلک ہے کہ جمع بین الصلوٰتین حقیقی صرف عرفات اور مزدلفہ میں مشروع ہے اس کے علاوہ کہیں جائز نہیں، خواہ عذر ہو یا نہ ہو، البتہ جمع صوری جائز ہے اس طور پر کہ ظہر کی نماز بالکل آخر وقت میں اور عصر کی نماز بالکل شروع وقت میں ادا کی جائے، اس طرح دونوں نمازیں در حقیقت اپنے اپنے وقت میں ہی ادا ہوں گی ہاں ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے صورۃً جمع بین الصلوٰتین کہہ دیا گیا ہے، جیسا کہ امام بخاریؒ نے اپنی کتاب بخاری جلد اوّل کے صفحہ ۲۲۸ پر "کتاب المناسک باب متیٰ یصلی الفجر بجمع "(ای بمزدلفۃ) کے تحت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک روایت بیان کی ہے کہ میں نے دیکھا کہ جب آپ ﷺ کو کسی سفر میں جلدی جانے کا ارادہ ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر فرمادیتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء کو جمع کردیتے، اسی طرح حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کو بھی جب کبھی سفر میں جلدی جانا ہوتا تو نمازِ مغرب سے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر انتظار فرماتے تھے اور اس کے بعد نمازِ عشاء پڑھتے تھے، خود حافظ ابن حجرؓ نے بھی اپنی کتاب "فتح الباری شرح بخاری "کی جلد ۲ صفحہ ۴۶۵؍ پر اس حدیث کے تحت فرمایا ہے کہ اس سے مراد جمع صوری ہی ہوسکتی ہے۔
لہٰذا سوال میں مذکور حدیث کی بناء پر جمع حقیقی مراد لے کر دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا درست نہیں اس سے احتراز چاہئے۔
(۱) آیت کریمہ: ان الصلوٰۃ کانت علی المؤمنین کتاب موقوتا۔
ترجمہ: بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقررہ وقتوں پر۔ (سورۂ نساء آیت نمبر ۱۰۳)
(۲) فویل للمصلین الذین ہم عن صلوٰتہم ساہون۔
ترجمہ: پھر خرابی ہے ان نمازیوں کی جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں۔ (سورۂ ماعون آیت نمبر ۴)
(۳) حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ والسطٰی۔
ترجمہ: محافظت کرو سب نمازوں کی اور درمیان والی نماز کی۔ (سورۂ بقرہ آیت نمبر ۲۳۸)
(۴) عن نافع و عبد اﷲ بن واقد اَن مؤذن ابن عمر قال الصلوٰۃ قال سِرسرِ حتٰی اذا کان قبل غیوب الشفق نزل فصلی المغرب ثم انتظر حتیٰ غاب الشفق فصلی العشاء ثم قال إن رسول اﷲ ﷺ کان اذا عجل بہ امر ضع مثل الذی ضعت فسار فی ذالک الیوم واللیلۃ مسیرۃ ثلاثٍ۔ اھـ
ترجمہ: حضرت نافع اور عبد اللہ ابن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمرؓ کے مؤذن نے کہا کہ نماز کا وقت ہے تو ابن عمرؓ نے فرمایا کہ چلو ،چلو ،یہاں تک کہ غیوبِ شفق سے پہلے اتر گئے اور مغرب کی نماز پڑھی پھر تھوڑی دیر تک انتظار کیا یہاں کہ تک کہ شفق غائب ہوگیا پھر عشاء کی نماز پڑھی پھر فرمایا کہ آپ ﷺ کو جب کسی کام میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے جیسے میں نے کیا تو اس دن رات میں تین دن رات کا سفر کیا۔ (ابو داؤد: ج۱، ص۱۷۱)-
(۵) قال ابن عباسؓ قال صلیتُ مع النبی ﷺ ثمانیًا جمیعًا وسبعًا جمیعا قلت یا ابا الشعثآء اظنہ اخر الظہر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء قال وانا اظن ذالک۔ اھـ
ترجمہ: ابن عباسؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آٹھ رکعت ایک ساتھ اور سات رکعت ایک ساتھ، میں نے کہا اے ابا الشعثآء میں اس کو گمان کرتا ہوں کہ ظہر کو مؤخر کیا ہوگا اور عصر میں جلدی کی ہوگی اور مغرب کو مؤخر کیا ہوگا اور عشاء میں جلدی کی ہوگی، ابن عباسؓ نے فرمایا کہ میں بھی یہ گمان کرتا ہوں۔ (ج۱، ص۲۴۶)-
…(۲)… اس حدیث مبارکہ ’’الماء طہور لا ینجسہ شیء‘‘ یعنی پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی، اس میں ’’الماء‘‘ کے لفظ پر ’’الف لام‘‘ عہد خارج کا ہے اس سے مراد خاص بیر بضاعہ کا پانی ہے اور ’’لا ینجسہ شیء‘‘ کا مطلب ’’لا ینجسہ شیء مما تتوہمون‘‘ ہے یعنی صحابہ کرامؓ نے جب بیر بضاعہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا ان کنویں کا پانی پاک ہے؟ کہ یہ کنواں نشیبی زمین میں واقع ہے ا ور اس کے چاروں طرف آبادی ہے تو آبادی کی نجاستیں اور حیض و نفاس وغیرہ کے گندے کپڑے وغیرہ جو ہر طرف پڑے رہتے ہیں وہ ہوا سے اُڑ کر یا بارش کے پانی سے بہہ کر اسی کنویں میں گرتے ہیں چنانچہ ان خیالات کے بناء پر صحابہ کرام کو اس کے ناپاک ہونے کا وہم پیدا ہوگیا مگر یہ خیالات محض وساوس اور اوہام تھے اور مشاہدہ پر مبنی نہیں تھے، اس لئے آپ ﷺ نے ان وسوسوں کو ختم کرنے کیلئے علیٰ اسلوبِ الحکیم جواب ارشاد فرمایا ’’إن الماء طہور لا ینجسہ شیء‘‘۔
اور بعض دیگر حضرات نے یہ توجیہ بیان کی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اس کنویں میں گندگیاں اور غلاظتیں وغیرہ ڈالی جاتی تھیں اگرچہ اسلام کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے مگر دل میں شک و شبہ باقی تھا کہ اس کی دیواروں پر نجاست کے اثرات باقی ہوں گے اس پر صحابہ کرامؓ نے سوال کیا اور آپ نے مذکورہ بالا ارشاد کے ذریعہ اس کے وہم اور شک کو دور فرمادیا چنانچہ حضراتِ محدثین نے اس کے علاوہ اور بھی اس حدیث کی توجیہات بیان فرمائی ہیں۔
لہٰذا آپ ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے ہر قسم کے پانی پر (خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ اور اس کا رنگ، بو اور مزہ تبدیل ہوچکا ہو یا نہ) یہ حکم لگانا کہ یہ پاک ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی احادیثِ صحیحہ صریحہ کی روشنی میں قطعاً درست نہیں، جیسے ترمذی کے باب کراہیۃ البول فی الماءِ الراکد کے تحت حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث:
(۱) لا یبولن احدکم فی الماء الدائم ثم یتوضاء منہ۔ اھـ
ترجمہ: فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے (یہ کتنی عجیب بات ہے) کہ پھر اس سے وضو بھی کرے گا۔ (ترمذی: ج۱، ص۲۱)-
(۲) عن ابی ہریرۃؓ عن النبی ﷺ قال اذا ستیفظ احدکم من اللیل فلا یُدخِل یدہ فی الاناءِحتٰی یفرغ علیہا مرتین أو ثلٰثا فانہ لا یدری این باتت یدہ۔ اھـ
ترجمہ: ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو اُٹھے تو اپنے ہاتھ برتن میں نہ ڈالے یہاں کہ اس پر دو یا تین دفعہ پانی نہ بہائے، کیونکہ اس کو معلوم نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری۔ (ترمذی: ج۱، ص۱۳)-
(۳) مسلم شریف باب حکم ولوغ الکلب کے تحت حدیث ولوغ الکلب وغیرہ جیسی احادیث اس پر شاہد ہیں۔
…(۳)… اس سوال میں ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں یا کیا پوچھنا چاہتے ہیں یا اپنے کس دعویٰ پر بطورِ استشہاد پیش کررہے ہیں؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرماکر دوبارہ اس کا حکم معلوم کرلیا جائے۔
…(۴)… حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی اس روایت سے موزوں کے دونوں جانب (یعنی اوپر نیچے کی طرف) مسح کرنے کو ثابت کرنا درست نہیں ایک تو اس وجہ سے کہ حضراتِ محدثین نے اس حدیث کو بعض وجوہ کی بناء پر معلول قرار دیا ہے مثلاً ۱۔ یہ کہ امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب ترمذی میں جب یہ حدیث بیان کی ہے تو اس کے معلول ہونے کی علت اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ’’یہی روایت عبد اللہ بن مبارک‘‘ نے بھی ثور بن یزید سے نقل کی ہے اس میں سند ’’کاتب المغیرہ‘‘ پر ختم ہوگئی ہے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا کوئی ذکر نہیں گویا عبد اللہ بن مبارک کی سند میں یہ حدیث مسندات المغیرہ میں سے نہیں بلکہ کاتب المغیرہ کی مرسل ہے ولید ابن مسلم کو وہم ہوا اور انہوں نے اسے موصولاً روایت کردیا اسی بناء پر امام ترمذی لم یسندہ عن ثور بن یزید غیر الولید بن مسلم فرماتے ہیں۔ ۲۔ اور امام ابو داؤد نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس کے معلول ہونے کی یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ثور بن یزید نے یہ حدیث رجاء بن حیوٰۃ سے نہیں سنی، گویا یہ حدیث منقطع ہے، اسی طرح بعض دیگر محدثین کرام نے بھی اس حدیث کے معلول ہونے کی علتیں اور وجوہات بیان فرمائی ہیں۔
اس تفصیل کے بعد واضح ہو کہ موزوں کے اوپر کے حصہ پر مسح کرنا ضروری ہے ان کے نیچے کا مسح کرنا مشروع نہیں جیسا کہ امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب کے "باب فی المسح علی الخفین ظاہرہما "کے تحت حضرت مغیرہ بن شعبہ ہی کی روایت نقل کی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں کے ظاہر پر مسح کرتے ہوئے دیکھا، اس حدیث پر امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے، نیز یہی حدیث امام بخاریؒ نے تاریخِ کبیر میں عن عروۃ عن المغیرہ کے طریق سے روایت کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے، اسی طرح امام ابو داؤد نے اپنی معروف کتاب سننِ ابی داؤد میں" اسناد حسن" کے ساتھ حضرت علیؓ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:
عن علیؓ قال لو کان الدین بالرای لکان اسفل الخف اولی بالمسح من أعلاہ وقد رأیت رسول اﷲ ﷺ یمسح علٰی ظاہر خفیہ وکذا فی بلوغ المرام وفی التلخیص۔ (ج۱، ص۵۹)-
ترجمہ: حضرت علیؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں اگر دین رائے سے ہوتا تو موزے کا نیچے والا حصہ زیادہ مناسب تھا مسح کیلئے موزے کے اوپر والے حصے سے اور تحقیق میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح فرماتے تھے۔
چنانچہ اس طرح بعض دوسری احادیث سے بھی آپ ﷺ سے موزوں کے ظاہر پر مسح کرنا ثابت ہے، لہٰذا صرف حدیثِ مذکور کی بناء پر موزوں کے دونوں جانب مسح کرنے کا جواز ثابت کرنا یا اسے لازم اور ضروری قرار دینا احادیثِ صحیحہ صریحہ کی روشنی میں درست نہیں، جیسا کہ تفصیل بالا سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔
(۵) اس حدیث پاک کے بیان کرنے سے بظاہر ہر سائل یہ بتانا چاہتا ہے کہ ناپاک برتن اور ناپاک کپڑوں وغیرہ کو پاک کرنے کیلئے صرف ایک مرتبہ دھونا ہی کافی ہے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ دھونا ضروری نہیں، حالانکہ اس کا یہ خیال درست نہیں اس لئے کہ نجاست دو طرح کی ہوتی ہے، ایک مرئیہ (یعنی وہ جو خشک ہونے پر دیکھنے میں نظر آئے) اور دوسری غیر مرئیہ (یعنی وہ جو دیکھنے میں نظر نہ آئے) نجاستِ مرئیہ میں ناپاک برتن اور کپڑے وغیرہ کی پاکیزگی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک نجاست کی عین یعنی ذات اس شئی پر لگی ہوئی ہو، پھر اس کا ازالہ جتنی مرتبہ دھونے سے ہو اتنی مرتبہ دھونا ضروری ہے، البتہ نجاست غیر مرئیہ میں خواہ نجاست کا یقین ہو جیسے کتا کسی برتن کو چاٹ لے تو اسے تین مرتبہ دھوکر پاک کرنے کے بارے میں فرمایا گیا ہے، اسی طرح اگر نجاست کا یقین نہ ہو بلکہ محض احتمال ہو جیسے سونے کی حالت میں ہاتھوں کے نجس ہوجانے کے احتمال پر بھی اِنہیں تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے پھر اس معاملہ میں مبتلیٰ بہ کی رائے کا اعتبار ہے کہ اُسے جتنی مرتبہ دھونے سے طہارت کا ظنِ غالب یا یقین ہوجائے تو اتنی مرتبہ دھونا ضروری ہے خواہ وہ ایک مرتبہ ہی کیوں نہ ہو، مگر عام طور پر تین مرتبہ دھونے سے ظنِ غالب حاصل ہوجاتا ہے اس لئے احناف رحمہم اللہ نے ایسی ناپاک اشیاء کو تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے۔
(۶) جاننا چاہئے کہ پیشاب کسی چھوٹے دودھ پیتے بچے، بچی کا ہو یا کسی نوجوان اور بوڑھے کا ہو اسے نجس قرار دیا گیا ہے اور احادیث میں اس سے بچنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور اس میں کسی خاص نوع کے افراد کے پیشاب کی تخصیص نہیں کی گئی اور پھر بعض احادیث میں ’’صب علیہ الماء‘‘ اور ’’اتبعہ الماء‘‘ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو غسل یعنی دھونے پر صریح بھی ہیں جیسے آثار السنن جلد اوّل کے ص۱۷؍ پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’آپ ﷺ کے پاس چھوٹے بچے لاۓ جاتے تھے پس ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا جس نے آپ ﷺ پر پیشاب کردیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اس پر پانی بہادو‘‘ اس حدیث مبارک میں آپ ﷺ نے بچہ کے پیشاب کے بعد اس پر پانی بہانے اور دھونے کا حکم فرمایا، نیز جن احادیث مبارکہ میں بچے کے پیشاب کے ساتھ لفظ ’’رَش اور نضح‘‘ بمعنی چھینٹے مارنا وارد ہوا ہے اُن کے بھی ایسے معنیٰ مراد لئے جاسکتے ہیں جو دوسری روایات کے مطابق ہیں اور وہ معنیٰ "غسلِ خفیف" ہے کہ ان دونوں لفظوں کے یہ معنیٰ بھی متعارف ہیں چنانچہ خود امام شافعیؒ نے بھی کئی ایک احادیث میں لفظ ’’رش اور نضح‘‘ سے دھونا مراد لیا ہے، اسی طرح امام مسلمؒ نے لڑکے کے پیشاب کی تطہیر کے سلسلہ میں اپنی کتاب صحیح مسلم میں ’’النفح، الرش، الصب اور اتباع الماء‘‘ چار قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اور ان سب روایات پر عمل غسل یعنی دھونے کی صورت میں ہی ممکن ہوسکتا ہے، لہٰذا لڑکی اور لڑکے کے پیشاب سے پاکی حاصل کرنے کیلئے دھونا ہی ضروری ہے، ان میں کوئی فرق نہیں اور چھینٹے مارنے سے گندگی مزید بڑھے گی کم نہیں ہوگی لہٰذا چھینٹے مارنے سے احتراز کرنا چاہئے پھر احادیثِ مبارکہ میں ان دونوں کے پیشاب کے حکم کو الگ الگ بیان کرنے کی یہ وجہ ہے کہ بچی کا پیشاب بمقابلہ بچے کے پیشاب کے غلیظ اور زیادہ بدبودار ہوتا ہے البتہ غذا کے استعمال سے بچے کے پیشاب میں بھی غلظت ہوجاتی ہے اس کے بعد یعنی دودھ چھڑانے کے زمانہ کے بعد ان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ واﷲ اعلم وعلمہ اتم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58902کی تصدیق کریں
0     2257
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ضعیف حدیث کی نسبت حضورﷺ کی طرف کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • مختلف احادیث کی فقہی تشریح

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • عافیت کی دعا سے متعلق، علامہ حصکفی ؒ کی عبارت کا حدیث کے ساتھ تعارض

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علیؓ کے غسل دینے سے متعلق روایت کی تحقیق

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • ’’أنت و مالک لأبیک‘‘ (تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے)حدیث کی وضاحت

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • حدیث ’’من رآنی فی المنام فقد رآنی‘‘ کی تشریح

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • مطلق حدیث اور حدیث قدسی میں فرق

    یونیکوڈ   انگلش   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • حدیث کے الفاظ ’’دشمنوں کی گردنیں اڑاؤ‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • "جنت ماں کے قدموں تلے ہے" کی تشریح

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • ’’ مرنے والا اور مارنے والا دونوں جہنمی ہیں‘‘ سے کیا مراد ہے؟

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • یخرج من ضئضئ ہذا قوم والی حدیث کی مراد

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • حضور علیہ السلام کی نبوت سے متعلق ایک حدیث کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • کیا قرآن پاک کی کچھ گمشدہ آیات ہیں؟

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • بچوں کی بچپن میں فوتگی کے بارے حدیث ابی شعبہ سے متعلق متعدد سوالات

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • فیس استعمال کرنا اور ’’اللہ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہے‘‘ روایت کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • ’’اگر میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • "حاسبوا قبل ان تحاسبوا"رویت کی تحقیق

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • "میری امت میں تہتر فرقے" حدیث کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • بحری لشکر کی قیادت کی بناء پر یزید کو جنتی قرار دینا

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • ’’صحابی کی مٹھی بھر خیرات ، غیر صحابی کی احد پہاڑ کے برابر خیرات سے بہتر ہے‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • قیامت سے متعلق ایک حدیث کی تشریح

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • حدیث شریف میں وارد عصبیت سے مراد

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • ’’اللہ کے راستے میں ایک نماز پڑھنے پر انچاس کروڑ نمازوں کا ثواب

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • امتِ محمدیہ کی اوسط عمر سے متعلق روایت کی تحقیق

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 0
  • پانی اور کجھور کو "اسودین" کہنے کی توجیہ

    یونیکوڈ   حدیث کے معانی و مطالب 2
Related Topics متعلقه موضوعات