محترم جناب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا حضرت عائشہ کی کوئی حدیث ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’کبھی کھبار دو تین دن تک کھانے کے لۓ کچھ نہیں ہوتا تھا ، سوائے دو کالی چیزوں کے ’’ یعنی پانی اور کھجور ، جبکہ آج کل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پانی جب تھوڑی مقدار میں ہو ،تو اس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور جب زیادہ مقدار ہو تو نیلا رنگ کا ہوتا ہے ، براہِ مہربانی حدیث کو با ترجمہ ذکر کیجیے اور اس کی فضیلت واضح کیجیے۔
یہ عربی زبان کا مخصوص اسلوب ہے کہ قرب کی وجہ سے ایک نام دو الگ چیزوں کے لۓ استعمال کیا جاتا ہے ، جیسے چاند اور سورج کو ’’قمرین‘‘ یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے ، حالانکہ چاند اور سورج دونوں کے مستقل نام ہیں ، اسی قاعدہ کے تحت تغلیباً کھجور کے رنگ کی سیاہی کی وجہ سے پانی اور کھجور دونوں کے لۓ ’’اسودین‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔
فی مشكاة المصابيح : و عنها قالت : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وما شبعنا من الأسودين اھ (2/ 1214)۔
و فی مرقاة المفاتيح : تحت (من الأسودين) : أي : التمر و الماء ، ففيه تغليب كالقمرين و العمرين تغليبا للمأكول على المشروب اھ (7/ 2706)۔