مولانا طارق جمیل اپنے بیانات میں اکثر ترمذی کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے آپﷺ سے پوچھا آپ کو نبوت کب ملی؟ تو آپ نے فرمایا: کہ ابھی تو زمین و آسمان بھی نہیں تھے میں تو جب بھی نبی تھا (اللہ کمی بیشی معاف کرے ۔آمین)اور یہ کہ اللہ پاک نے زمین آسمان بننے سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ یٰسین کی تلاوت کی تو یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت بھی آپ ﷺ تھے، اس لیے اللہ نے یٰسین کی تلاوت فرمائی ،وضاحت فرمائیں ۔
سوال میں ترمذی شریف کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس سے صر ف اتنی بات معلوم ہو تی ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کے وقت، بلکہ اس سے قبل آپ ﷺ کی نبوت کا فیصلہ ہو چکا تھا اور علم الٰہی میں آپ نبی تھے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ ﷺ اس وقت بذات خود بھی موجود تھے ۔
کما فی سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال قالوا : يا رسول الله متى وجبت لك النبوة ؟ قال وآدم بين الروح والجسد- (5 / 585)
و فی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن الله تبارك وتعالى قرأ طٰہٰ و يس قبل أن يخلق السموات والأرض بألف عام فلما سمعت الملائكة القرآن قالت طوبى لأمة ينزل هذا عليها وطوبى لأجواف تحمل هذا وطوبى لألسنة تتكلم بهذا " . رواه الدارمي - (1 / 486) واللہ أعلم بالصواب!