اختلافی مسائل قرآن و عقائد سے متعلق :محققین علماء ِکرام کی رائے قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں یہ ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں (کم وبیش) میں سے کوئی بھی بت پرست نہیں تھا، جبکہ فاروق اعظمؓ ۲۶ سال کی عمر میں اسلام لائے ، دوسری طرف ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ’’اگر میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا‘‘ اب حدیثِ مبارک کی صحت پر اعتراض یہ ہے کہ اللہ رب العزت یہ کیسے چاہیں گے کہ ایک سابقہ بت پرست نبی ہو جائے؟
نبی کریمﷺ کا فرمانِ مذکور حضرت عمرؓ کے اعلانِ نبوت کی غرض سے نہیں تھا، بلکہ آپؓ کی سلامتِ طبع اور اصابتِ رائے کو دیکھ کر آپؓ کی فضیلت بتانے کی غرض سے تھا، کہ آپؓ انبیاء کرام ؑ جیسی صفات کے حامل شخص ہیں، اس لیے مذکور اعتراض بالکل بےجا ، اور روایت و درایت سے ناواقفی پر مبنی ہے، لہٰذا اس قسم کی باتوں سے احتراز لازم ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن حذيفة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "إني لا أدري ما بقائي فيكم؟ فاقتدوا باللذين من بعدي: أبي بكر وعمر". رواه الترمذي(3/ 1709)۔