مفتی صاحب حدیث کا مفہوم سمجھائیں '' مرنے والا اور مارنے والا دونوں جہنمی ہیں '' آج کل جو بے گناہ مررہے ہیں، کیا وہ بھی جہنمی ہوئے یا کچھ اور مطلب ہے؟
واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ جملہ '' مرنے والا اور مارنے والا دونوں جہنمی ہیں '' حدیث کا ایک ٹکڑا ہے ۔جبکہ مکمل حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ''جب دو مسلمان ایک دوسرے کے خلاف مارنے کیلیے تلوار اٹھالیں تو ان میں مارنے والا اور مرنے والا دونوں جہنمی ہونگے ۔پوچھاگیا اے اللہ کے رسولؐ !قاتل کے بارے میں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے، پر مقتول کے ساتھ یہ معاملہ کیوں؟ تو فرمایا:کیونکہ اس نے بھی دوسرے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ۔ [اگر وہ اسے نہ مارتا تو یہ اسے ماردیتا ]۔
جہاں تک آج کل کے بے گناہ مرنے والوں کا تعلق ہے تو وہ اس حدیث کے تحت داخل نہیں ۔
فی صحيح مسلم: عن الأحنف بن قيس قال * خرجت وأنا أريد هذا الرجل فلقيني أبو بكرة فقال أين تريد يا أحنف قال قلت أريد بن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني عليا قال فقال لي يا أحنف نصر ارجع فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا تواجه المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار قال فقلت أو قيل يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال إنه قد أراد قتل صاحبه اھـ (4 / 2213) واللہ أعلم بالصواب