کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے عیسائی جماعت کے کئے ہوئے اعتراض کے جواب دینے میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے،محمد ﷺ نے لکھا کیونکہ قرآنِ کریم آج تک سو فیصد محفوظ ہے اس لئے آج کی جدید عربی بھی وہ پرانی اور صحیح عربی کے طرز پر بولی جاتی ہے صرف و نحو کے اعتبار سے،میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح مسلمانوں کا خیال ہے کہ قرآن سو فیصد محفوظ ہے یہ درست نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ آپ کو مندرجہ ذیل حدیثوں کا علم ضرور ہوگا جو میرے اس دعویٰ پر شاہد ہیں:
(۱) بخاری شریف میں حضرت زیدؓ ذکر کرتے ہیں کہ قرآن کی دو مفقود آیتوں کو تلاش کررہا ہوں۔
(۲) بخاری شریف میں اسی طرح ایک اور روایت ہے
(۳) بخاری شریف میں ہے کہ یہ آیت بھی مفقود ہے جس میں ہے کہ : ’’آپ لوگوں کو ہمارے طرف سے پیغام پہنچادیں کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی اور وہ ہم سے خوش ہے اور ہم کو بھی راضی کیا‘‘۔
(۴) مؤطا میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے کاتب سے ایک آیت کا اضافہ کروایا کیونکہ ان کو حضور ﷺ کا اسی طرح پڑھنا یاد تھا۔
اعتراض:
سو فیصد محفوظ ہے……؟ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس میں ……میں پھنس گئے ہیں۔
قرآنِ کریم بلاشبہ سوفیصد محفوظ ہے اور قیامت تک ربِّ ذوالجلال نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، لہٰذا قرآنِ کریم کی حفاظت پر شبہ کرنا، بلاشبہ ناجائز اور کفر ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں سائل نے قرآنِ کریم پر اعتراض کرنے کیلئے جن کتابوں کا نام لیا ہے اور بطورِ دلیل چند احادیث کا حوالہ بھی پیش کیا ہے، اس میں انتہائی درجہ خیانت اور بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ہے، ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ مذکور کتابوں کی پوری، پوری عبارتوں کو پڑھتے اور سیاق و سباق کو بھی دیکھتے تو اسے سوال کرنے اور پھر اس کے بعد جواب کا انتظار کرنے کی تکلیف نہ اُٹھانی پڑتی، چنانچہ وہ احادیثِ مبارکہ مکمل طور پر ذیل میں نقل کی جارہی ہیں:
(۱) حضرت زید بن ثابت کے بیٹے خارجہ بن زید بن ثابت (قرآنِ کریم جمع کرنے کی ابتدائی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) کہ انہوں نے زید بن ثابت سے سنا، فرمایا! مصحف میں نقل کرتے وقت میں نے ’’سورۂ احزاب کی ایک آیت (لکھی ہوئی) نہیں پائی جو میں رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا، پس ہم نے اسے تلاش کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے (جن کے اکیلے گواہی کو نبی کریم ﷺ نے دو آدمیوں کے برابر قرار دیا تھا ) پاس پائی (وہ آیت یہ تھی) ’’من المؤمنین رجالٌ صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ‘‘ تو ہم نے اسے اس کی سورۃ میں ملاکر مصحف میں لکھا دیا۔ (بخاری: ج۲، ص۷۴۶)-
(۲) ابن سباق کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے فرمایا کہ میری طرف ابوبکر صدیقؓ نے پیغام بھیجا اور فرمایا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کیلئے وحی لکھا کرتے تھے، لہٰذا آپ (مختلف لوگوں سے جن کے پاس جتنا حصہ ہو) تلاش کرکے (جمع کریں) تو میں نے تلاش کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری دو آیتیں میں نے ابو خزیمہ انصاری کے پاس پائی، جو ان کے علاوہ میں نے کسی اور کے پاس (لکھی ہوئی) نہیں پائی، وہ آیتیں ’’لقد جائکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم‘‘ آخر تک ہیں۔ (بخاری: ج۲، ص۷۴۶)-
(۳)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ’’بنی سلیم‘‘ کے چند لوگ ’’بنی عامر‘‘ کی طرف بھیجے جو ستر (۷۰) آدمی تھے جب وہ (بنو عامر کے پاس گئے) تو ان کو میرے ماموں نے کہا کہ میں تم سے پہلے جاتا ہوں، اگر انہوں نے مجھے امان دی تو ان کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچادوں گا اور اگر انہوں نے امان نہیں دی (بلکہ مخالفت پر اُتر آئے) تو (حمایت کیلئے) تم میرے قریب ہو ہی، چنانچہ انہوں نے ا ن کو امان دے دی، تو درمیان کلام جب وہ ان کو نبی کریم ﷺ کی بات سنارہے تھے، اچانک انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا، تو اس نے (میرے ماموں) کو نیزہ مارا جو ان کے پار ہوگیا، تو فرمایا ’’اللہ اکبر‘‘ رب کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہوگیا، پھر وہ (قوم والے) دوسرے صحابہ کی طرف مائل ہوئے اور ان کوقتل کیا، مگر ایک لنگڑا آدمی پہاڑ پر چڑھ گیا، حدیث کے راوی ہمام کہتے ہیں میرے خیال میں ان کے ساتھ (کوئی) دوسرا (بھی) تھا تو جبرئیل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ ’’تحقیق وہ اپنے رب سے مل گئے وہ ان سے خوش ہوگئے اور ان کو راضی کیا، پس ہم پڑھتے تھے کہ ’’آپ ہماری قوم کو پیغام پہنچادیں کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی وہ ہم سے خوش ہوئے اور ہمیں بھی خوش کیا‘‘ پھر اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ (بخاری: ج۱، ص۳۹۳)-
(۴) جہاں تک ’’مؑؤطا‘‘ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت کا تعلق ہے تو وہ تفسیر پر محمول ہے اور امام محمدؒ بھی اس کو ’’باب التفسیر‘‘ میں ہی لائے ہیں اس لئے کہ یہ لفظ ’’وصلوٰۃ العصر‘‘ جن کا حضرت عائشہ نے لکھنے کو فرمایا تھا منسوخ التلاوۃ ہے چنانچہ مسلم شریف میں ہے حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ’’حافظوا علی الصلوات وصلوٰۃ العصر‘‘ نازل ہوئی تو جب تک اللہ نے چاہا ہم اس کو پڑھتے رہے پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے منسوخ فرمادیا، پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’حافظوا علی الصلوات والصلوٰۃ الوسطیٰ‘‘ (مسلم: ج۱، ص۲۲۷) اور پھر محدثین کے ہاں حضرت عائشہؓ کی مذکور تفسیری زیادتی بھی اس وقت کی ہے جب قرآنِ کریم کو مصاحف میں ابھی جمع نہیں کیا گیا تھا۔
مذکورہ بالا احادیث کی مکمل عبارت پڑھنے سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ سائل نے احادیثِ رسول پیش کرنے میں کس خیانت اور قرآن پر اعتراض کرنے میں کس قدر ظلم و زیادتی کا مظاہرہ کیا ہے: ’’چہ دلاور است دردے کہ بکف چراغ دارد‘‘، اگر وہ پوری مکمل حدیث پڑھ لیتے تو انہیں یہ اعتراض قطعاً وارد نہ ہوتے، جیسا کہ شروع میں بھی عرض کیا جاچکا ہے۔
لہٰذا اس قسم کے اعتراض کرنے اور اس قسم کی باتوں کو عوام میں پھیلانے سے احتراز لازم ہے۔