کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1. ایک دن مقرر کر دینے سے کیا مراد ہے؟
2. کیا ایسی مائیں اپنے فرائض اور حق سے ، جو اللہ کے ہیں ، اس زندگی میں مستثنیٰ ہیں؟
3. کیا ایسی مائیں جہنم میں قطعی نہیں جائیں گی؟
4. اگر ایک بچہ شیرخواری ( کی عمر) میں فوت ہوجائے تو کیا یہ استحقاق ماں کو ملتا ہے؟
حدیث: ابوشعبہؓ سے بیان ہے’’ عورتوں نے اللہ کے رسولﷺ سے درخواست کی‘‘ براہِ مہربانی ہمارے لیے ایک دن مقرر فرما دیجیے۔ تب پیغمبر نے تبلیغ کی اور کہا، ایک عورت جس کے تین بچے وفات پا جائیں وہ اس کو جہنم کی آگ سےمحفوظ کر لیں گے‘‘۔ یہ سن کر ایک عورت نے پوچھا ’’ اگر دو فوت ہوں تو؟ پیغمبر نے جواب دیا دو بھی (وفات پاکر) اس کو (ماں کو ) جہنم کی آگ سے محفوظ کر لیں گے‘‘۔ اور ابوہریرہ نے اضافہ کیا ہے وہ بچے بلوغت کی عمر سے نیچے ہوں (یعنی ان کی موت بلوغت سے پہلے ہوئی ہو) ۔(صحیح البخاری، ۲/۳۴۱)-
حدیثِ مبارک میں ایک دن مقرر کر دینے سے مراد یہ ہے کہ انصار کی چند عورتوں نے حضور ﷺ سے مطالبہ کیا کہ مردوں کی طرح ہمارے وعظ و نصیحت کے لیے بھی ایک دن مقرر فرما دیں، حدیث ِمسئول میں مذکور فضائل سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسی ماؤں کے ذمہ سے دیگر فرائض و واجباتِ شرعیہ ساقط ہو جائیں گے، بلکہ ان فضائل سے والدہ کی دلجوئی کے تحت اسے صبر کی تلقین کی گئی ہے اور آخرت میں بھی نجات کی بشارت بیان کی گئی ہے، اور بچوں کی فوتگی پر صبر کے عمل کا درجہ بتایا گیا کہ اگر جنت میں دخول سے مانع کوئی عمل نہ پایا جاۓ اور ایک عورت کے پاس صرف یہی عمل ہو تو اکیلا یہی ایک عمل اس کے جنت میں داخلے کیلۓ کافی ہے ،پھر اس فضیلت کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، اس طور پر کہ ایک عورت کے ذمہ کئی ایک حقوق اللہ واجب ہیں اور اس کے نابالغ بچے ایک یا دو فوت ہوگئے ہیں تو ان حقوق اللہ سے درگزر فرما کر جنت میں داخل فرما دیا جائےگا ، اور یہ فضیلت جس طرح دو یا تین نابالغ بچوں کے فوت ہونے سے حاصل ہوتی ہے اسی طرح ایک بچے کے فوت ہونے پر بھی اللہ ربّ العزّت مرحمت فرما دیتے ہیں، مگر اس سے کفر اور شرک جیسے گناہ یاحقوق العباد کے تلف کرنے جیسے گناہ مستثنیٰ ہیں کہ ان پرمؤاخذہ ہوگا۔ تاہم مشرک تو ہمیشہ کے لیےدوزخ کا ایندھن رہیں گے، البتہ مسلمان گناہگار اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔
ففی صحيح البخاري: عن أبي هريرة - رضي الله عنه -، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا يموت لمسلم ثلاثة من الولد، فيلج النار، إلا تحلة القسم» قال أبو عبد الله: ﴿وإن منكم إلا واردها﴾ (مريم: 71)(2/ 73)-
و فیه أیضاً: عن أنس - رضي الله عنه -، قال: قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ما من الناس من مسلم، يتوفى له ثلاث لم يبلغوا الحنث، إلا أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم»(2/ 73)-
وفی حاشیة صحيح البخاري: (يوما) تخصنا فيه بالموعظة دون الرجال. (فوعظهن) أي فعين لهن يوما أتاهن فيه ووعظهن. (امرأة) هي أم سليم - رضي الله عنها - أم أنس بن مالك وزوجة أبي طلحة الأنصاري - رضي الله عنهم أجمعين -) (2/ 73)-
وفی مرقاة المفاتيح: ويؤخذ من هذا الحديث أن الثواب المترتب على الثلاثة والاثنين مرتب على الواحد كما في رواية البخاري. (3/ 1237)-
وفیه أیضاً: (إلا دخلت الجنة) أي: دخولا أوليا، وهو لاينافي الولوج تحلة القسم،(3/ 1236)-