کیا خیال ہے آپ حضرات کا ان لوگوں کے بارے میں جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کو غسل حضرت علیؓ نے دیا تھا، تو ان کا یہ کہنا کس حد تک درست ہے؟
ان لوگوں کا کہنا بے اصل نہیں، اس لیے بعض روایات میں اس بات کی تصریح ملتی ہے، مگر عند الاحناف یہ روایات مؤّول ہیں، اس طور پر کہ غسل دینے کا کام تو حضرت اُم ایمن یا بعض روایات کے مطابق اسماء بنت عمیس نے انجام دیا تھا اور دیگر انتظامات میں خود حضرت علیؓ پیش پیش تھے۔
ففی الدر المختار: وقالت الأئمة الثلاثة: يجوز لأن عليا غسل فاطمة - رضي الله عنها -.(2/ 198)
وفی حاشية ابن عابدين:قال في شرح المجمع لمصنفه فاطمة - رضي الله تعالى عنها - غسلتها أم أيمن حاضنته - صلى الله عليه وسلم - ورضي عنها فتحمل رواية الغسل لعلي - رضي الله تعالى عنه - على معنى التهيئة والقيام التام بأسبابه، ولئن ثبتت الرواية فهو مختص به، ألا ترى «أن ابن مسعود - رضي الله عنه - لما اعترض عليه بذلك أجابه بقوله: أما علمت أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: إن فاطمة زوجتك في الدنيا والآخرة» فادعاؤه الخصوصية دليل على أن المذهب عندهم عدم الجواز اهـ. (2/ 198)
و فی شرح الزرقاني على الموطأ: وَأَمَّا تَغْسِيلُهُ لَهَا فَأَجَازَهُ الْجُمْهُورُ وَالْأَئِمَّةُ الثَّلَاثَةُ; لِأَنَّ عَلِيًّا غَسَّلَ فَاطِمَةَ، وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَالثَّوْرِيُّ: تُغَسِّلُهُ لِأَنَّهَا فِي عِدَّةٍ مِنْهُ، وَلَا يُغَسِّلُهَا لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي عِدَّةٍ مِنْهَا، وَلَا حُجَّةَ فِيهِ; لِأَنَّهَا فِي حُكْمِ الزَّوْجِيَّةِ لَا فِي حُكْمِ الْبَيْنُونَةِ الخ (2/ 73)