السلام علیکم ! میں آپ سے دو سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
1. کیا ہم فیس بک استعمال کر سکتے ہیں؟ یا حرام ہیں؟
2. ایک حدیث کا مفہوم ہے ’’اللہ بندے کے ساتھ ویسا ہوتا ہے جیسے وہ گمان کرتا ہے اس حدیث کا مطلب کیا ہے؟ یہ معافی اور توبہ کے ساتھ خاص ہے یا زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہیں۔
۱۔ اگرچہ فی نفسہ اس کا جائز استعمال شرعاً بھی جائز ہے، مگر غیرتِ ایمانی کا تقاضا یہ ہےکہ ایسی ویب سائٹ کے استعمال کرنے سے احتراز کیا جائے۔
۲۔ اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ ربِّ کریم بندے کے ساتھ ہر قسم کی اچھائی اور برائی میں ویسا ہی معاملہ کرتے ہیں جیسا وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی سے گمان اور اُمید رکھتا ہے۔
پس جب بندے کا یقین اللہ تعالیٰ پر کامل ہو جاتا ہے۔ اور وہ متوکّل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے اپنے قریب کر لیتے ہیں۔ اور اس کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما دیتے ہیں وغیرہ ۔ جیسا کہ شرّاحِ حدیث نے اس کی مکمل وضاحت بھی بیان کی ہے۔ ملاحظہ ہو:
ففی مرقاة المفاتيح: والظن في الحديث يجوز إجراؤه على ظاهره، ويكون المعنى أنا أعامله على حسب ظنه بي، وأفعل به ما يتوقعه مني من ضر أو شر، والمراد الحث على تغليب الرجاء على الخوف وحسن الظن بالله، كقوله - عليه الصلاة والسلام -: " «لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله» " ويجوز أن يراد بالظن اليقين، والمعنى، أنا عند يقينه بي، وعلمه بأن مصيره إلي وحسابه علي، وأن ما قضيت به له أو عليه من خير أو شر لا مرد له، ولا معطي لما منعت، ولا مانع لما أعطيت. أي: إذا رسخ العبد في مقام التوحيد، وتمكن في الإيمان والوثوق بالله قرب منه ورفع له الحجاب بحيث إذا دعاه أجاب، وإذا سأله استجاب.(4/ 1542) والله أعلم بالصواب!
ففی صحيح البخاري: عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه اھ(1/ 20)