کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس حدیث کے بارے میں حوالہ کے ساتھ بتائیں کہ ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے دیکھا‘‘۔
۱۔ اس حدیث کے اہل علم نے کئی ایک معانی اور مقاصد بیان کیے ہیں، جس میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے دیکھا عالمِ شہود اور عالم ِنظام میں، یعنی یہ حقانیت اور سچائی میں ایسا ہوگا، جیسے مجھے حالتِ بیداری میں دیکھا۔
۲۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا خبر دیدو کہ یہ خواب سچا ہے اس نے حقیقۃً مجھے ہی دیکھا ہے یہ ’’اضغاث احلام‘‘ نہیں ہے۔
۳۔ جس نے مجھے عالم خواب میں دیکھا اللہ تعالیٰ عالمِ مشاہدہ میں بھی اسے میری زیارت کرائیں گے، دنیا میں ہو یا آخرت میں، اس کے علاوہ اور معانی و مقاصد بھی بیان کیے گئے ہیں۔
فی مرقاة المفاتيح: وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «من رآني في المنام فقد رآني، فإن الشيطان لا يتمثل في صورتي» ". متفق عليه
وقال المصنف رحمه اللہ تحت ھذا الحدیث: فكأنه قد رآني في عالم الشهود والنظام، لكن لا يبتني عليه الأحكام ليصير به من الصحابة، وليعمل بما سمع به في تلك الحالة، كما هو مقرر في محله، وقيل: أراد به أهل زمانه، أي: من رآني في المنام يوفقه الله تعالى لرؤيتي في اليقظة إما في الدنيا أو في الآخرة، ويدل عليه حديث أبي هريرة الآتي: فسيراني في اليقظة، ولعل التعبير بصيغة الماضي تنزيلا للمستقبل منزلة المحقق الواقع في الحال، وإن كان يقع في المآل، وقيل: يراه في الآخرة على وفق منامه بحسب مقامه، وقيل: هو بمعنى الإخبار، أي: من رآني في المنام فأخبروه بأن رؤيته حقيقة وحقة ليست بأضغاث أحلام. («فإن الشيطان لا يتثمل في صورتي»)(7/ 2914)۔