اس حدیث کی سند کیا ہے؟ ’’حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہے، اور بہت کم ہی لوگ اس عمر کو پورا کر سکتے ہیں‘‘ اس حدیث کو کس نے بیان کیا ہے کس کے حوالے سے ؟اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
اس روایت کو ’’امام ترمذی‘‘ نے اپنی کتاب ’’سنن الترمذی‘‘ میں نقل فرمایا ہے اور علماء ومحدثین کے نزدیک اس کی سند جید اور صحیح ہے، جبکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدیہ کے اکثر افراد کی عمریں غالباً ۶۰ یا ۷۰ سال کےدرمیان ہونگی اور ذیل میں وہ حدیث بھی پیش کی جا رہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل اگر کسی قسم کا مقالہ اور مضمون نگاری کرتا ہے تو اسے خود تحقیق کرنا لازم ہے البتہ اگر کسی واقعی مسئلہ میں شرعی راہ نمائی مطلوب ہو تو اس ای میل کا جواب دیا جائےگا، ورنہ نہیں۔
فی سنن الترمذي: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عمر أمتي من ستين سنة إلى سبعين سنة. هذا حديث حسن غريب اھ(4/ 144)۔
وفی مرقاة المفاتيح: عنه، قال: «قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين، وأقلهم من يجوز ذلك»". رواه الترمذي، وابن ماجه. (إلی قوله) قال ابن الربيع: وصححه ابن حبان والحاكم وقال: إنه صحيح على شرط مسلم اھ (8/ 3303)۔