السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس حدیث پاک کے بارے میں کہ میرا صحابی ایک مٹھی جو اللہ کی راہ میں خیرات کرے اور غیر صحابی احد برابر سونا خیرات کرے تو وہ صحابی کی خیرات کے برابر نہیں ہو سکتا ، حضرت مگر وہ غیر صحابی ، بظاہر عمل میں تو صحابی سے بڑھ گیا ، اس نے اُحد کے برابر سونا خیرات کیا اور صحابی نے ایک مٹھی ، ٹھیک ہے ثواب نہیں بڑھا ، مگر بظاہر دیکھنے میں وہ غیرصحابی بڑھ گیا ؟
اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے عمل کی فضیلت اور ان کا اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینے اور ان کے اخلاص کا بیان کرنا مقصود ہے ، جو یقیناً بعد کے لوگوں میں مفقود ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح : عن أبي سعيد الخدري - رضي الله عنه - قال : قال النبي - صلى الله عليه وسلم - : ( «لا تسبوا أصحابي ، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم و لا نصيفه» ) متفق عليه .
و قال المصنف رحمه الله تحت قوله : (ما بلغ مد أحدهم و لا نصيفه) أي : و لا بلغ نصفه أي : من بر أو شعير لحصول بركته و مصادمته لإعلاء الدين وكلمته مع ما كانوا من القلة و كثرة الحاجة و الضرورة ،( إلی قوله) و ذلك معدوم فيما بعدهم ، و كذلك سائر طاعاتهم و عباداتهم و غزواتهم و خدماتهم ،( إلی قوله) و المعنى لا ينال أحدكم بإنفاق مثل أحد ذهبا من الأجر و الفضل ما ينال أحدهم بإنفاق مد طعام أو نصف ، لما يقارنه من مزيد الإخلاص و صدق النية ، و كمال النفس.(9/ 3875)۔