ایک کتاب میں عمدۃ القاری اور شرح مہذب کا حوالہ دے کر لکھاہے کہ ضعیف حدیث کی نسبت نبی کی طرف کرنا نبی پر جھوٹ بولناہے، اور نبی پر جھوٹ بولنے والے اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے، اس کی کیا تفصیل ہے؟ رہنمائی فرمائیں:
مذکور کتابوں میں جو کچھ لکھاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث جس درجہ کی ہو تو اسی انداز میں روایت کی جائے اگر حدیث صحیح ہو تو اسی کے صیغہ کے ساتھ اور ضعیف یا موضوع ہو تو انہی کے الفاظ اور صیغوں کے ساتھ روایت کی جائے وہ مطلب نہیں جو سائل یا مذکور کتاب والے نے سمجھایاہے۔