میں نے 2008 میں ایک مکان خریدا، میرے پاس کچھ پیسے کم پڑے،میں نے اپنے بڑے بھائی سے قرض کی درخواست کی، بھائی نے اپنا پلاٹ فروخت کر کے مجھے ایک لاکھ نقد دیئے ،اور کچھ سونا دیا،میں نے وہ سونا تقریباً چھیالیس ہزار پانچ سو کا فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرلی ، لیکن بھائی سے یہ بات طے ہوئی کہ جب واپس کرونگا ،تو ایک لاکھ نقد واپس کرونگا، اور سونا جتنے وزن کا اتنا دونگا، 2008 میں ایک تولہ سونے کی قیمت بائیس ہزار تھی ،اور اب چونسٹھ ہزار ہے، اب میں نے وہ ایک لاکھ نقد رقم تو واپس کر دی ہے، لیکن اسی وزن کا سونا ابھی ایک لاکھ تیس ہزار کا ہے، بھائی مجھ سے سونے کے بدلے میں نقدر قم مانگ رہے ہیں ۔ اور میں بھی رقم دینے کے لیے راضی ہو گیا ہوں، کیا سونا ادھار دینا جائز ہے ؟ تو کتنے عرصے کے لیے ؟ ہماری یہ لین دین جائز ہے ؟ میں نے ایک عالم سے سنا ہے کہ سونا ادھار دینا جائز نہیں ہے ، کیونکہ اس کی قیمت بڑھتی رہتی ہے، براہ کرم احادیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ سونےیا چاندی کو ادھار پر دینا،لینا دونوں جائز ہے، لہذا سائل نے جتنا سونا 2008 ء میں اپنے بھائی سے ادھار لیا تھا اب اتنا ہی سونا اس پر واپس کرنا لازم ہے، تاہم اگر فریقین اس کی قیمت دینے پر رضامند ہوں ، تو ایسا کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
کمافي الدر المختار: (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) اھ (5/ 162)۔
وفيه ايضا: لأن الدين ليس بمال بل وصف في الذمة لا يتصور قبضه حقيقة اھ (3/ 848)۔
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله، فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر. اھ (3/ 848) والله اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1