سوال مجھے پندرہ لاکھ روپے کی ضرورت ہے،میں قسطوں پر کار لیتا ہوں،پھر کار نقد روپے پر فروخت کرتا ہوں،کیا یہ جائز ہے؟
سائل اگر پیسے حاصل کرنے کے لئے کسی شخص سے قسطوں پر کار خرید کر پھر دوبارہ اسی کو قیمتِ خرید سے کم پر نقد میں فروخت کردے تویہ بیع عینہ کی صورت ہے،جوکہ شرعاً جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ اگر سائل قسطوں پر کار خرید کر اپنے قبضہ میں لانے کے بعد کسی تیسرے شخص کو نقد میں فروخت کرے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کمافی فقہ البیوع: بیع العینۃ ماعرفہ النووی بقولہ" وھو أن یبیع غیرہ شیئا بثمن مؤجل ویسلمہ الیہ، ثم یشتریہ قبل قبض الثمن باقل من ذلک الثمن نقدا" فان کان البیع الثانی مشروطا فی البیع الاول فھو بیع فاسد بالاجماع( الی قولہ) اما المالکیۃ والحنفیۃ والحنابلۃ فھم متفقون علی عدم جوازہ (1/548)۔
وفیہ أیضاً: التورق فی إصطلاح الفقھاء: ھو شراء شخص (المستورق) سلعۃ بثمن مؤجل من اجل ان یبیعھا نقداً بثمن اقلّ غالبا الی غیر من اشتریت منہ بقصد الحصول علی النقد، وھذا التورق جائز شرعاً،بشرط ان یکون مستوفیا لشروط البیع المقررۃ شرعاً (1/556)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1