کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اسٹیٹ ایجنسی یعنی پراپرٹی کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟
(۲) کسی بھی جائز کاروبار میں نفع یا منافع کمانے کی کیا حد ہے؟
(۳) کیبل کا یعنی مختلف ٹی وی چینلز کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ حکومتِ پاکستان نے لائیسنس بھی دیا ہوا ہو ، ایسے رشتہ داروں کے گھر کھانا پینا اور ان سے تعلق رکھنا کیسا ہے؟
(۱) اسٹیٹ ایجنسی کے کاروبار میں اگر بروکر کی کمیشن متعین ہو اور دوسرے ناجائز امور سے بھی اجتناب کیا جائے ، تو شرعاً جائز اور درست ہے۔
(۲) شریعت میں منافع کی کوئی حد متعین اور مقرر نہیں ، البتہ بازار کی عام اور متعارف قیمت سے بہت زیادہ وصول کرنا ، اور لوگوں کی مجبوری سے غلط فائدہ اُٹھانا ظلم ہے ، جو شرعاً جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
(۳) کیبل نیٹ ورک کے ذریعہ ، ٹی وی پر تقریباً جتنے بھی چینلز چلتے ہیں، ان میں سے اکثر کا مقصد چونکہ فحاشی پھیلانا اور بے دینی کو عام کرنا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں طرح طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہیں ، لہٰذا اس قسم کے کاروبار کو ذریعۂ معاش بنانے سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر شخصِ مذکور کا کام محض کنکشن دینا ہو ، جبکہ اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہے تو ایسے شخص کا کھانا کھانے کی گنجائش ہے مگر اپنے دوست احباب کو اس قسم کی فحاشی کے ذرائع میں لگنے سے بچانے کا اہتمام چاہئے۔
سسئل محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار فقال ارجو أنہ لا بأس بہ و ان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃ التعامل و کتبہ أن ہذا غیر جائز ، فجوزہ لحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام۔(شامی: ج۶، ص۶۳)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1