السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
پوچھنا یہ ہے کہ میں نے ایک لیپ ٹاپ 10 ماہ کی مدت پر قسط ( اصل قیمت 68 ہزار ، قسط کے 35 فیصد ملاکر) 91800میں خریدا ہے، جس کی مدت ابھی تک مکمل نہیں ہے , (صرف ایک مہینہ گزرا ہے) اب میں نے سوچا کہ اس قسط والے کے سارے پیسے اسے یکجا نقد دوں ، مگر قسط والے رقم سے کچھ کم کرکے مثلا 91800 کے بجائے 81000 دوں ، تو یہ کیسا ہے؟ (اس میں معاملہ نقد لین دین کرکے 10ہزار فائدے کی رقم سے کاٹا جارہا ہے) شروع میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی ، مگر ابھی میرے لۓ اسے یکجا اور کم دینے میں سہولت ہے. بینو ا توجروا
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے قسطوں پر معاملہ فائنل کرکے ، دس مہینے کی ادھار پر لیپ ٹاپ خریدلیاہے ، تو اب سائل کے ذمہ معاملہ کے وقت طے شدہ قیمت مبلغ 91800 روپے کی ادائیگی شرعا لازم اور ضروری ہے ، اور اب یکمشت رقم ادا کرنے کی صورت میں اس کی قیمت میں کمی کرنا شرعاًجائز نہیں ، البتہ اگر فروخت کرنے والا(بائع) سائل کا وقت سے پہلے رقم ادا کرنے پر غیرمشروط طورپر ، اپنی مرضی وخوشی سے اس میں سے کچھ رقم کم کرنا چاہے ، تو اسے اختیار ہے، تاہم ایسا کرنا ان پر لازم اور ضروری نہیں۔
کما فی الهداية : "قال و لو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز لأن المعجل خير من المؤجل و هو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه و ذلك اعتياض عن الأجل و هو حرام"(باب الصلح فى الدين ، 3/197)۔
شرح المجلة لسليم رستم باز : " حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح و معتبر" (المادة: 256 ، ص: 133)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1