کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) کیا ٹی وی دیکھنا جائز ہے ؟ اگر اس میں جانوروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی نشریات پیش کی جارہی ہوں یا اس وقت جبکہ اسلامی تقاریر اور قرآن کریم کے بارے میں کوئی پروگرام نشر ہورہا ہو ؟
(۲) اگر جائز ہے تو کس رو سے؟
(۳) اور اگر جائز نہیں تو کس رو سے؟
(۴) اگر جائز نہیں تو اس کی دنیا اور آخرت میں کیا جزاء ہے؟
جاننا چاہئے کہ موجودہ دور میں ٹی وی بے شمار منکرات و فواحشات پر مشتمل ہے ، نیز عام معاشرہ میں بھی اس کے اثرات سے بے حیائی ، بے غیرتی فحاشی جیسے سینکڑوں جرائم بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں اور پورا مسلم معاشرہ ، تباہی اور ہلاکت کے دہانے لگ چکا ہے ، لہٰذا ٹی وی جیسی خرافات کا خریدنا ، بیچنا اور دیکھنا وغیرہ جائز نہیں ، اس سے احتراز ضروری ہے۔
قال تعالٰی : و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اﷲ بغیر علم و یتخذہا ہزوا آولٰئک لہم عذاب مہین۔ (سورۃ القمان آیت ۶)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1