کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ٹی وی ، کسی عیسائی یا غیر مسلم کے ہاتھ فروخت کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
السائل: مولانا ابرار عالم
جی ہاں ! کسی غیر مسلم کے ہاتھ ٹی وی فروخت کرنے کی گنجائش ہے، اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنے استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔
نظیرہ فی الدّر المختار : و جاز بیع عنب ممن یعلم أنہ یتخذہ خمرًا لأن المعصیۃ لا تقوم بعینہ۔(ج۶، ص۳۹۱)۔
و فیہ ایضًا (فائدۃ) و من ذالک ضرب النوبۃ( إلٰی قولہ) کما إذا ضرب فی ثلاث اوقات لتذکیر ثلاث نفخات الصور ، و فی الرد : أقول : و ھذا یفید أن آلۃ اللہو لیست محرّمۃ لعینہا بل لقصد اللہو منہا (إلٰی قولہ) ألا تری أن ضرب تلک الآلۃ حل تارۃ و حرم أخرٰی باختلاف النیۃ۔اھـ (ج۶، ص۳۵۰)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1