کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی کے پاس فٹ پاتھ کی دو دکانیں تھیں ،جس پر میں کام کرتا تھا ،اور اس کو کرایہ دیتا تھا ،پھر اس نے مجھے ایک ڈیڑھ سال پہلے کہا کہ میں یہ دکانیں بیچ رہا ہوں ،تم نے خریدنی ہے تو خرید لو،تو میں نے وہ دکانیں (5000000) روپے کی خریدلی ،اور بات فائنل ہوگئی ،پھر اس نے مجھ سے پیسے مانگے تو میں نے کہا کہ میرے پاس نقد پیسے نہیں ہے ،آپ نے میرے کاروبار والے سلینڈر لینے ہیں تو لے لو ،اس نے مجھ سے (1580490)روپے کی مالیت کے سلینڈر لے لئے ،اور ابھی پندرہ دن پہلے میں نے پھر (1500000) روپے دیے ،اب ٹوٹل ادا کردہ رقم (3080490)روپے ہوگئی ،وقتِ خرید سے اب تک میں اپنے بھائی کو کرایہ دیتا رہا ،اب تیس لاکھ ادائیگی کے بعد بھی کرایہ کا مطالبہ کر رہا ہے ،شرعی طور پر وہ کرایہ کا حقدار ہے یا نہیں ؟
مذکور دکانیں اگر سائل کے بھائی کی ذاتی ملکیت تھیں ،اور سائل نے پچاس لاکھ روپے کے عوض وہ دکانیں اپنے بھائی سے خرید لی ہوں تو سائل ان دکانوں کا مالک بن چکا ہے ،اب سائل کے ذمہ اپنے بھائی کو فقط دکانوں کی بقیہ قیمت دینا لازم اور ضروری ہے،لہٰذا سائل کے بھائی کیلئے دکانیں فروخت کرنے کے بعد بھی سائل سے کرایہ کے مد میں پیسے وصول کرنا اور اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،اور دکانوں کی خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہونے کے بعد اب تک اگر سائل کے بھائی نے کرایہ کے مد میں سائل سے رقم وصول کی ہے تو وہ رقم سائل کو واپس کرنا ،یا بقیہ قیمت کی مد میں اسے منہا کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
و فی صحيح مسلم: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا، و مؤكله، و كاتبه، و شاهديه»، و قال: «هم سواء»(3/ 1219)۔
و فی الہندیہ : و أما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري و في الثمن للبائع إذا كان البيع باتا و إن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عندالإجازة كذا في محيط السرخسي اھ(3/3)۔
و فی الدر المختار : و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن .اھ(5/166)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1