سوال یہ ہے کہ کسی کرکٹ میچ یا کوئی بھی ایسی جگہ جہاں جانا جائز ہو، اس کی ٹکٹ کم پیسوں میں خرید کر ڈبل نفع کےساتھ بیچنا حرام ہے، کیونکہ اس میں سامنے والے شخص کی مجبوری کا کچھ حد تک فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، اگر حرام نہیں ہے تو کیا ایسا کرنا چاہئے؟
اسٹیڈیم یا کسی اور مقام میں جانے کیلئے کم قیمت میں خریدے ہوئے ٹکٹ مہنگے دام عموماً اس وقت فروخت کئے جاتے ہیں کہ متعلقہ فورم سے ان ٹکٹوں کی فروختگی بند ہوجاتی ہے، جس کے بعد یہ ٹکٹ متعلقہ ادارے کے متعین کردہ رقم سے مہنگے دام بلیک میں فروخت کئے جاتے ہیں جو کہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اس لئے اسے اصل قیمت سے زائد پر فروخت کرنا شرعاً درست نہیں۔
وفی الشامیۃ: (مطلب طاعۃ الإمام واجبۃ)
(قولہ: أمر السلطان إنما ینفذ) أی یتبع ولا تجوز مخالفتہ وسیأتی قبیل الشہادات عند قولہ أمرک قاض بقطع أو رجم إلخ التعلیل بوجوب طاعۃ ولی الأمر وفی ط عن الحموی أن صاحب البحر ذکر ناقلا عن أئمتنا أن طاعۃ الإمام فی غیر معصیۃ واجبۃ فلو أمر بصوم وجب اھـ وقدمنا أن السلطان لو حکم بین الخصمین ینفذ فی الأصح وبہ یفتی۔ (ج۵، ص۴۲۲)۔
کما فی تکملۃ فتح الملہم: الحقوق التی تتعلق باجازات مکتوبۃ: والنوع الرابع من الحقوق عبارۃ عن حق الاستفادۃ باجازات کتبہا المجیز علی ورقۃ، فثبت الاجازۃ لکل من یحملہا، مثل طوابع البرید فانہا عبارۃ عن اجازۃ استعمال البرید، ومثل تذاکر القطار والطائرۃ والتوبیسات، فانہا عبارۃ عن اجازۃ استعمالہا لکل من یحملہا، ولم ار عند الفقہاء حکما صریحا لبیع مثل ہذہ الحقوق، ولکن الذی یظہر ان الاجازۃ المکتوبۃ ان کانت مقتصرۃ علی من اعطیہا باسمہ الخاص، فلا یجوز بیعہا، کما فی تذکرۃ الطائرۃ فانہا تکون مخصوصۃ بالاسم، فلا یجوز بیعہا، لکون الشرکۃ انما رضیت بعقد الاجارۃ مع رجل مخصوص، فلا یجوز لہ ان ینقل ہذا الحق الی غیرہ۔ الخ (ج۱، ص۳۶۴۹)۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1