کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
ا۔ رکشہ بنانے والی ایک کمپنی ہے، جو خود رکشہ بنانے کا کام کرتی ہے، اور فی رکشہ ڈھائی لاکھ روپوں کے عوض میں فروخت کرتی ہے، لیکن اگر میں سو رکشوں کی رقم ایڈوانس پیمنٹ کے طور پر کمپنی کو پہلے سے فراہم کرتا ہوں، تو کمپنی مجھے یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ مجھے فی رکشہ اس کی اصل قیمت ڈھائی لاکھ میں سے دس ہزار روپے کم کر کے فراہم کرےگی، مثلا مجھے فی رکشہ دو لاکھ چالیس ہزار کاپڑ گیا، توکیا کمپنی کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر مذکورہ معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ لاہور میں" سمارٹ سٹی" کے نام سے ایک سوسائٹی ہے، جس کی آدھی زمین کی پلاٹنگ اور فائلیں بن چکی ہیں ، اور ان فائلوں کی مارکیٹ میں خرید و فروخت بھی شروع ہو چکی ہے، بقیہ آ دھی زمین کی پلاٹنگ اور فائلیں ایک ماہ میں تیار ہونی ہے، اس آدھی زمین کی ایک ماہ بعد جو پلاٹنگ اور فائلیں بنے گی، اس میں پلاٹ کی فائل کی قیمت تقریباً دولاکھ روپے لگائی گئی ہے، اب مالک زمین مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر میں ان کو ابھی ایک کروڑ یادو کروڑ روپے ایڈوانس پیمنٹ دے دوں تو جو پلاٹ ایک ماہ بعد دولاکھ روپے کا فروخت ہو گا وہ پلاٹ مجھے ستر ہزار کے ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ایک لاکھ تیس ہزار روپے میں اس کی فائل مالکِ مکان فراہم کریں گے، تو کیا اس طرح کا معاملہ کر ناشرعاً جائز ہے؟
۱۔ واضح ہو کہ عموماً ایڈ وانس پیمنٹ دیتے وقت خریداری کا معاملہ نہیں کیا جاتا، بلکہ بعد میں کیا جاتا ہے، لہذا ایسی صورت میں جور قم بطورِ ایڈوانس دی جائیگی، اس کی حیثیت قرض کی ہوگی، جس پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا شرعاً درست نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لۓ خریداری کا معاملہ کۓ بغیر مذکور کمپنی کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر فی رکشہ دس ہزار ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا تو شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ سائل مذکورکمپنی سے عقدِ استصناع کی بنیاد پر معاملہ کرے، اس طور پر کہ سائل مذکور کمپنی کو سو (100) رکشوں کا آرڈر دے کر ایڈوانس پیمنٹ ادا کر دے، جس کی وجہ سے کمپنی اسے مقررہ قیمت سے کم پر رکشہ فراہم کر دے اور آرڈر دیتے وقت رکشوں کی مکمل صفات اور قیمت اس طور پر متعین کر دے کہ جو بعد میں نزاع اور جھگڑے کا باعث نہ ہو تو شرعاً یہ معاملہ اور کمپنی کی طرف سے سائل کو ایڈوانس پیمنٹ کی وجہ سے قیمت میں رعایت دینا بلا شبہ جائز ہوگا۔
۲۔ ایڈوانس پیمنٹ بطورِ قرض دے کر سوسائٹی والوں سے مذکور ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا درست نہیں، تاہم سائل اگر مذکور زمین میں سے کوئی مخصوص مقدار میں پلاٹ خریدے یا زمین کا کوئی حصہ ایک، دو کروڑکے عوض خرید لے، اور احتیاطاً اس مخصوص حصہ کی حدودِ اربعہ اس طور پر متعین کۓ جائیں جو بعد میں نزاع اور جھگڑے کا باعث نہ ہو اور پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل قیمت کی ادائیگی کی وجہ سے سائل کے ساتھ مذکور سوسائٹی والوں کی طرف سے قیمت میں رعایت کی جائے تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه اھ (5/ 166)۔
وفي الفتاوى الهندية: يجوز الاستصناع استحسانا لتعامل الناس وتعارفهم في سائر الأعصار من غير نكير. كذا في محيط السرخسي. والاستصناع أن تكون العين والعمل من الصانع فأما إذا كانت العين من المستصنع لا من الصانع فإنه يكون إجارة ولا يكون استصناعا كذا في المحيط اھ(4/ 517)۔
وفی فقه الببوع ويمكن تعريفه الاصطلاحی بان يقول ھو ان يطلب المشترى من البائع ان یاتی له بشي مصنوع بمواد من عنده موصوف في الذمة ويلتزم البائع بذالك الخ (585/1)۔
وكما في فقه البيوع: وقدتباع قطعة من الأرض مقدرة بالخطوات أو الأمتار و لكن یترك تعيينها للمستقبل وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات أو الامتار فمثلا كل قطعة منها بقدر خمسمائة متر و لكن لا يتعين محل تلك الخمس مائة عند الشراء وإنما یتعین حسب التصمیم الذی تعمله الشرکة فیما بعد فالسوال هل یصح هذا البیع علی أنه بیع حصة مشاعة من تلك الأرض الواسعة؟ (إلی قوله) وعلی هذا فإن بیع قطعة غیر معینة من جملة القطعات لا یجوز عند الإمام أبی حنیفة رحمه اللہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔فالأخذ بقول الإمام أبی حنیفة أولیٰ وإن لم تکن مفضیة إلی المنازعة فقول الصاحبین أولیٰ بالأخذ اھ (۱/ ۳۷۶)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1