مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ گدھے کو ہل چلانے کے لئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور عورتوں کے لباس کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
گدھے کو ہل چلانے کے لئے استعمال کرنے اور خواتین کے لباس کی خرید و فروخت میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تاہم اگر اسکے متعلق سائل کو کوئی شبہ ہو تو اس کی وضاحت کرکے مکرر سوال کرے، اس پر غور فکر کے بعد انشاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔
کما قال اللہ تعالی: وَٱلۡبُدۡنَ جَعَلۡنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمۡ فِيهَا خَيۡرٞۖ فَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّۖ فَإِذَا وَجَبَتۡ جُنُوبُهَا فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡقَانِعَ وَٱلۡمُعۡتَرَّۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃالحج الآیۃ:36)۔
وقال تعالی ایضاً: وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ (سورۃالنحل، الآیۃ:8)۔
وفی موسوعۃ الفقہ الاسلامی: القاعدة التاسعة: الأصل في الأشياء الإباحة۔ فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه فالأصل الإباحة في كل شيء، والتحريم مستثنى (ج2، ص293، ط: بیت الافکارالدولیہ)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1