السلام علیکم کیا فر ماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں مارکیٹ کا اصول ہے کہ گندم کے کام میں ایک من پر 2 کلو کاٹتے ہیں مثلا اگر میں کسی زمیندار سے 4 بوری گندم کی لیتا ہوں ہر بوری 40کلو کی ہوتی ہےتو میں 2کلو کاٹتا ہو ں اسکا علم بائع مشتری دونوں کو ہوتاہے اور پیسے بھی 38کلو کے حساب سے دیتا ہوں ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟؟؟
یہ بات بظاہر محل نظر ہے ،کہ ۴۰کلو والی گندم کی بوری سے دو کلو کم کیوں جاتا ہے؟ اور اگر دو کلو کم ہی کرنا ہو تو پھر اسے ابتداء ہی 38کلو کے حساب سے فروخت کیوں نہیں کیا جاتا؟ تاہم اگر خریدار کو اس چیز کا علم ہو تو زمیندار کیلئے 40کلو کی بوری میں دو کلو کم کر کے فروخت کرنا تو درست ہو گا ،مگر ایسی صورت میں خریدار کیلئے گندم کی بوریاںآگے فروخت کرنے کی صورت میں زبانی یا بوری پر لکھ کر اسکی صراحت ضروری ہوگی ،کہ ان بوریوں میں چالیس کلو کے بجائے اڑ تیس کلو گندم ہے ،تاکہ لوگوں کو دھوکہ نہ ہو۔
کما فی المسلم : عن ابی ھریرۃ :ان رسول اللہ ﷺ قال: ’’من حمل علینا السلاح فلیس منا، ومن غشنا فلیس منا‘‘(ج۱ص۸۰)۔
وفی البدائع:(ومنھا)ان یکو ن المبیع معلو ماوثمنہ معلوماعلمایمنع من المنازعۃ فان کان احدھما مجھولا جھالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ فسد البیع ،وان کان المنازعۃ کانت مانعۃ من التسلیم والتسلیم فلا یحصل مقصود البیع ،واذا لم تکن مفضیۃ الی المناز عۃ لا تمنع من ذلک :فیحصل المقصود اھـ (ج۵ص۱۵۴)۔ واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1