السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اہلِ تشیُّع سے کوئی بھی چیز مثلاً زمین خریدنا یا ایگریکلچر فارم خریدنا یا انکے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنا کیسا ہے ؟جائز ہے یا نا جائز ہے یا حرام ہے؟کیونکہ وہ صحابہ کرام کے بھی اور کل کی ڈیٹ میں نعوذباللہ انہوں نے اپنا قرآن بھی منظرعام پر لے کے آئیں ہیں۔قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا جواب دیں۔
واضح رہے کہ مالی معاملات (جیسے خرید و فروخت و کرایہ داری وغیرہ )کی صحت کے لئے عاقدین( لین دین کرنے والوں )کا مسلمان یا صحیح العقیدہ ہونا شرعاً شرط اور ضروری نہیں بلکہ کفار اور بد عقیدہ لوگوں کے ساتھ بھی اگر شرعی ضابطوں کے مطابق خرید و فروخت کی جائے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔ البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ قلبی تعلق ،دوستانہ انداز سےمیل جول اور غمی خوشی یا ان کے مذہبی تقریبات میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی: یا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء الآیۃ
و فی تفسیر القرطبی تحت الآیۃ: الثانية- السورة أصل في النهي عن مولاة الكفار. وقد مضى ذلك في غير موضع «1». من ذلك قوله تعالى: لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين [آل عمران 28]. يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم [آل عمران: 118]. يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء [المائدة: 51]. ومثله كثير. الخ (ج:18 ص52 ط: دار الکتب المصریۃ۔القاھرۃ)۔
و قال تعالی: لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آباءهم أو أبناءهم أو إخوانهم أو عشيرتهم الآیۃ( سورة المجادلة آية 22)
و فی تفسير روح المعاني تحت الآیۃ: و حكى الكواشي عن سهل أنه قال : من صحح إيمانه و أخلص توحيده فإنه لا يأنس إلى مبتدع و لا يجالسه و لا يؤاكله و لا يشاربه و لا يصاحبه و يظهر له من نفسه العداوة و البغضاء ، و من داهن مبتدعا سلبه الله تعالى حلاوة السنن ، و من تحبب إلى مبتدع يطلب عز الدنيا أو عرضا منها أذله الله تعالى بذلك العز و أفقره بذلك الغنى الخ(ج14 ص229 دار الكتب العلمية بيروت)۔
و فی صحيح مسلم: عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى من يهودي طعاما إلى أجل ورهنه درعا له من حديد .(ج:5 ص:55 رقم الحديث:126-(1603) ط: دار طوق النجاة )۔
و فی الفتاوی الہندیہ: لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية الخ(کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر فی اہل الذمۃ ج:5ص:346 ط: دارالفکر)۔
و فیھا ایضاً: أما شركة العنان فهي أن يشترك اثنان في نوع من التجارات بر أو طعام۔۔۔فتجوز هذه الشركة بين الرجال والنساء۔۔۔۔والمسلم والكافر، كذا في فتاوى قاضي خان الخ (کتاب الشرکۃ ج:2 ص:319 ط: دار الفکر)۔
و فیھا ایضاً: من أسلم من أهل الخراج أخذ منه الخراج على حاله، ويجوز أن يشتري المسلم أرض الخراج من الذمي، ويؤخذ منه الخراج كذا في الهداية. الخ (کتاب السیر الباب السابع فی العشر و الخراج ج:2 ص:240 ط: دار الفکر)۔
و فیھا ایضاً: لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية الخ (کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب ج:5 ص:348 ط:دارالفكر)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1