کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ زید کا ایک پلاٹ تھا، جس پر اس نے پلاٹنگ کی، کل 25 دکانیں بنی، جس کو بغیر تعمیر کیے بیچنی تھی 25 لاکھ روپے فی دکان کے حساب سے، زید نے عمرو سے بات کی جو کہ بروکر تھا کہ اسے بیچنا ہے دو سال کی قسط پر، عمرو نے کہا کہ میں پانچ فیصد لوں گا، معاملہ طے پایا اس شرط پر کہ جو دکان زید بیچے گا، اس کا بھی پانچ فیصد عمر وکو دیا جائے گا اور جو عمرو بیچے گا، وہ بھی پانچ فیصد یعنی سب دکانیں پانچ فیصد کے حساب سے ہوں گی، تقریبا اڑھائی ماہ کی کوشش کے بعد بھی کوئی دکان نہیں بکی، اس کے بعد زید جو پلاٹ کا مالک ہے، اس کے پاس ایک پارٹی آئی کہ میں یہ سارا پلاٹ خریدنا چاہتا ہوں، زید عمرو کے پاس گیا 2.5 اڑھائی ماہ ہو گئے ہیں، کوئی دکان نہیں بکی، مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے، اگر تم سے بکتی ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ میرے پاس سارے پلاٹ کی پارٹی ہے، میں بیچ دوں، عمر و نے زید کو کہا کہ فی الحال کوئی دکان نہیں لے رہا، آپ سے بکتا ہے تو بیچ دو، ہم سے یہ کام زور ہے۔
زید نے وہ پلاٹ بکر سے رابطہ کر کے ایک ہی پارٹی کو سارا بیچ دیا اور بکر کو اس کی بروکری بھی دی، اب عمرو کہتا ہے کہ میرے پانچ فیصد بھی دو، کیونکہ ہمارا طے ہوا تھا کہ جو بھی بیچے گا، پانچ فیصد ملے گا، زید کا کہنا ہے کہ پانچ فیصد پلاٹنگ کا تھا، تم نے ا ایک بھی دکان نہیں بیچی اور پلاٹ میں نے بکر کے ذریعے بیچا ہے اور اس کو بروکری بھی دی ہے، اس کے علاوہ تم سے اجازت بھی لی ہے
سوال مذکور مسئلے میں عمرو کی بروکری بنتی ہے یا نہیں؟
نوٹ پلاٹنگ میں پلاٹ 55000000 میں بکتا، اب 33000000 لاکھ میں بکا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں زید اور عمروکےدرمیان جومعاہدہ طے پایا تھا، وہ پلاٹنگ کے بعد دکانوں کی فروخت پر "بروکری "کاتھا،پورے پلاٹ کی یکمشت فروخت پرنہیں تھا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ عمرو تقریباً اڑھائی ماہ کی کوشش کے باوجود ایک بھی دکان کی جگہ فروخت نہ کر سکا، جس کے بعد زید نے اپنی ضرورت کے پیشِ نظر عمرو سے مشورہ و اجازت طلب کرکے پورا پلاٹ دوسرے بروکر (بکر) کے ذریعے ایک ہی پارٹی کو فروخت کر دیا اور اس کی بروکری بھی اس (بکر) کو ادا کر دی۔کیونکہ شرعاً بروکری (دلالی) کامستحق وہی شخص ہوتاہے جوچیزکی فروختگی میں کوشش کرے اور واسطہ بنے ، لہٰذا مذکورہ صورت میں چونکہ عمرو نے نہ کوئی دکان فروخت کی،اور نہ ہی پورے پلاٹ کی فروخت میں اس کاکوئی عملی کردار ہے، بلکہ زید نے اس کی اجازت سے دوسرے بروکر کے ذریعے سودا کیاہے،اس لیے زید کےذمہ عمرو کو حسبِ وعدہ پانچ فیصد بروکری دینا لازم نہیں۔
جہاں تک پلاٹ کے مالک (زید)کی طرف سےجگہ خودفروخت کرنےپرعمرو کوپانچ فیصددینے کےمعاہدہ کاتعلق ہےاسکی حیثیت شرعاًمحض ایک ہبہ (گفٹ)کے وعدہ کی تھی ،جس کی ادائیگی قضاءً اس پرلازم نہیں ،البتہ اگرمروّتاًواخلاقاًوہ اس کودیناچاہے تویہ اس کاصوابدیدی اختیارہے ،تاہم عمرو کے لئے زیدسےمذکور پانچ فیصداپناحق شرعی سمجھ کر مطالبہ کرنے سے احترازچاہئیے۔
کما فی فقہ البیوع: وقد اختلف الفقھاء فی حکم الوفاء بالوعد علی أقوال: المشھور مما نقل عن جمھور الفقھاء أن الوفاء بالوعد مستحب مندوب، وھو من مکارم الأخلاق، ولکنہ لیس بواجب دیانۃ ولاقضاءً، والواعد إذا ترک الوفاء، فقد فاتہ الفضل وارتکب المکروہ کراھۃ تنزیھیۃ شدیدۃ، ولکنہ لم یأثم، وھذا القول منسوب إلی أبی حنیفۃ والشافعی وأحمد وبعض المالکیۃ،اھ(حکم الوعد أو المواعدۃ فی البیع، ج:1، ص:77، ناشر: مکتبۃ معارف القرآن)-
وفی شرح المجلۃ: لأن الدلال عادۃ لا یستحق الأجرۃ بعرض المبیع للبیع بل بوقوع البیع حقیقۃ اھ (الباب السادس فی انواع المأجور وأحکامہ،الفصل الرابع فی إجارۃ الآدمی، ج:1، ص: 244، ناشر: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الدر المختار: (ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال وحمال ودلال وملاح اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله حتى يعمل)؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما، فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل أو أثره على ما بينا فلا بد من العمل زيلعي والمراد لا يستحق الأجر مع قطع النظر عن أمور خارجية؛ كما إذا عجل له الأجر أو شرط اھ(باب ضمان الأجیر، ج:6، ص: 64، ناشر: سعید)-
وفی حاشية ابن عابدين:قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل اھ(باب الاجارۃ الفاسدۃ، ج:6، ص:47، ناشر: سعید)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1