کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم۔۔۔ واٹر کے نام سے پانی کا پلانٹ چلاتے ہیں،زمین سے پانی نکال کر اسے آر۔او کیا جاتا ہے ،اس پروسیجر میں ویسٹیج کی صورت میں کچھ پانی نالی میں ضائع بھی ہو جاتا ہے۔
سوا ل یہ ہے کہ اگر ہم اس پانی کو ضائع نہ کریں ،بلکہ کسی ٹنکی یا زیرزمین ٹینک میں محفوظ کرکے آگے اسے اس تاکید کے ساتھ فروخت کردیں کہ یہ پینے کے لئے نہیں ،بنیادی ضروریات جیسے کپڑے ، برتن ،وغیرہ دھونے یا تعمیرات میں استعمال کے لیے ہے، کیا اس پانی کی خرید وفروخت مذکورہ شرائط پر جائز ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں ری سائیکلنگ واٹر پلانٹ کے دوران اگر اس پانی کو کسی زیرِ زمین ٹینک یا ٹینکی میں محفوظ کرکے واضح طور پر یہ بتا کر فروخت کیا جائے کہ یہ پانی پینے (شرب) کے لیے نہیں، بلکہ بنیادی ضروریات جیسے کپڑے ، برتن ،وغیرہ دھونے یا تعمیرات میں استعمال کے لیے ہے،اس شرط کے ساتھ فروخت کرنا شرعاً جائزاوردرست ہے ۔
البتہ بہتر یہ ہے کہ خریدار کو یہ شرط تحریری طور پر بھی بتائی جائے،مثلاً رسید یابوتل پر لکھوا دیا جائے ، تاکہ کوئی شخص بعد میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو،مزید یہ کہ جن علاقوں میں صاف پانی دستیاب ہو، وہاں اس قسم کے پانی کے استعمال میں طبعی کراہت پائی جاتی ہے، لہٰذا وہاں اس کے فروخت میں احتیاط بہتر ہے،البتہ جہاں پانی کی قلت ہو، وہاں ایسے پانی کا عام استعمال بلکہ وضو و غسل میں استعمال کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اوصاف میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔
کما فی العرف الشذی شرح سنن الترمذی: عن أبي سعيد الخدري، قال: قيل: يا رسول الله، أتتوضأ من بئر بضاعة، وهي بئر يلقى فيها الحيض، ولحوم -[96]- الكلاب، والنتن؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الماء طهور لا ينجسه شيء». هذا حديث حسن الخ،تحت قولہ«الماء طهور لا ينجسه شيء» كما زعمتم وأغير في التعبير شيئا مع إبقاء المراد أي الماء طهور لا يبقى نجسا أبدا بحيث لا يكون لطهارته سبيل، فإن هذا التعبير أقرب إلى لفظ الحديث عربية اھ(ابواب الطھارۃ عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء الماء طھور لاینجسه شئ/96/97/1)۔
وفی شرح مختصر الطحاوی للجصاص:والدليل على تحريم استعمال الماء الذي فيه جزء من النجاسة وإن لم يتغير طعمه أو لونه أو رائحته، قول الله تعالى:} ويحرم عليهم الخبائث {، والنجاسات من الخبائث؛ لأنها محرمةاھ(239/1) ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی:المبحث الرابع أنواع المياه:المياه أنواع ثلاثة: طهور، وطاهر غير مطهر، ومتنجس:
النوع الأول الماء الطهور أو المطلق:هو الطاهر في نفسه المطهر لغيره، وهو كل ماء نزل من السماء، أو نبع من الأرض، ما دام باقياً على أصل الخِلْقة، فلم يتغير أحد أوصافه الثلاثة الخ،ويشمل الماء الذي ينعقد على صورة حيوان، أو ينعقد ملحاً، أو يرشح ويتبخر بخار ماء؛ لأنه ماء حقيقةاھ(الطهارات/أنواع المياه/265/264/1)۔
وفی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر:(وما أحرز من الماء بحب وكوز ونحوه لا يؤخذ إلا برضى صاحبه وله) أي لصاحب الماء المحرز (بيعه) أي بيع الماء لأنه ملكه بالإحراز وصار كالصيد إذا أخذه اھ(563/2)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1