السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ایک سوال کا جواب درکار ہے کہ اگر ایک دکاندار کاروبار کرتا ہے ،زرعی اجناس ادویات اور کھاد وغیرہ بیچتا ہے ۔ نقد کھاد کی بوری اگر وہ چار ہزار روپے کی بیچتا ہے ،مگر کسان کہتا ہے کہ میں اس وقت پیمنٹ کرنے کے قابل نہیں ہوں ،آپ مجھ سے پیمنٹ لیٹ لے لیجئے گا ،جب میری فصل تیار ہو جائے گی، تو آپ مجھ سے اس وقت پیسے لے لیجئے گا، تو دکاندار اسے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اس وقت جو بوری 4 ہزار روپے کی ہے تو جب آپ کی فصل تیار ہوگی تو اس وقت بوری 5 ہزار روپے کی ملے گی یا پھر اسے ایک پرسنٹیج بتا دیتا ہے کہ جناب تب ہم ساڑھے 12 پرسنٹ کے حساب سے قیمت آپ سے زیادہ لیں گے۔یعنی اگر آپ اس وقت نقد نہیں خرید سکتے تو ہم آپ کو وقت کی سہولت دیتے ہیں آپ ہمیں اس سہولت کے بدلے میں پیسے کی سہولت دیں ہماری چار ہزار کی بوری آپ تب 5 ہزار میں خریدیں اگر آپ کو منظور ہے تو آپ خرید لیں نہیں منظور تو نہ خریدیں یعنی اس پر زبردستی کوئی نہیں ہے اس کی کسی مجبوری کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔ایسا کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اس بارے میں آپ کی رائے درکار ہے۔
صورت ِ مسئولہ میں اگر خریدار اور تاجر کے درمیان عقد کرتے وقت ادھار قیمت کی ادائیگی پر فی بوری ایک قیمت متعین کردی جائے ، اس طور پر کہ مقرر وقت پر ادائیگی میں دیر سویر ہونے کی وجہ سے قیمت میں کمی بیشی نہ ہوگی ، بلکہ متعین مقدار میں طے شدہ رقم ( مثلاً 500 ، 600 وغیرہ ) کی ادائیگی ہی ہوگی ، تو یہ معاملہ شرعا بھی جائز اور درست ہوگا ۔
تاہم اگر فریقین کے درمیا ن ادھار خریداری کی صورت میں قیمت کا تعین فیصدی اعتبار سے ہو ، اس طور پر کہ وقت کے کم ہونے یا بڑھ جانے کی صورت میں ردوبدل کی جائے گی ، تو اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھدایة: قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة:275] وعنه عليه الصلاة والسلام "أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه". ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها الخ (کتاب البیوع ج: 3 ص:24 ناشر: دار احياء التراث العربي)
وفی بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: ومن هنا ینشأ السوال: هل یجوز أن یکون الثمن المؤجل أکثر من الثمن الحال؟.وقد تکلم الفقهاء فی هذه المسألة قدیما و حدیثاً؛(الی قوله)أما الأیمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثین، فقد أجازوا البیع المؤجل بأکثر من سعر النقد، بشرط أن یبت العاقدان بأنه بیع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق علیه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبیعك نقداً بکذا ونسیئة بکذا، وافترقا علی ذٰلك، دون أن یتفقا علی تحدید واحد من السعرین، فإن مثل هذا البیع لایجوز، ولکن إذا عین العاقدان أحد الشقین فی مجلس العقد، فالبیع جائز الخ (احکام البیع التقسیط ج:1 ص:12 ناشر: مکتبة دارالعلوم کراتشی)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1