حضرات علماءِ کرام مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں۔ بعض دوکاندار حضرات دسٹمبر کے ڈبہ میں انعامی ٹو کن رکھ کر فروخت کرتے ہیں ، گاہک حضرات مذکورہ ڈبہ کو انعامی ٹوکن حاصل کرنے کے غرض سے خریدتے ہیں بعض ڈبوں میں یہ ٹوکن ہوتا ہے ، اور بعض میں نہیں ہوتا، شرعاً ایسے ڈبوں کا خریدنا کیسا ہے مذکوره صورت قمار، صفقه في صفقہ ، بیع و شرط کے زمرے میں تو نہیں آتا ؟
(۲) جو حضرات مرغیوں کو فیڈ کھلاتے ہیں اگر اس میں نجس اشیاء شامل ہوں تو اس کا کھلانا اور کاروبار شرعاً کیسا ہے؟ محقّق و مدلّل جواب مطلوب ہے ۔
اگر محض ٹوکن کی نیت سے خریداری کی غرض نہ ہو تو یہ مذکور امور میں سے کچھ بھی نہیں، بلکہ کمپنی کی طرف سے تبرع اور رعایت ہے جس سے مقصود اپنی چیز کی خریداری کے لئے لوگوں کو راغب کرنا ہے جو شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
(۲) فیڈ کا کاروبار کرنا جائز اور اس کا مرغیوں کو کھلانا جائز ہے ہاں اس قسم کی غذایا نجاست کھانے سے اگر مرغی کے گوشت سے بدبو آنے لگے تو ایسی مرغی دجاجة مخلاۃ کے حکم میں ہوگی۔
کمافی بحوث قضایا فقھیۃ معاصرۃ: وان النوع الاول من ھذہ الجوائز ماتمنح علیٰ اساس القرعۃ ونحوھا لمشتری بضاعۃ مخصوصۃ او منتج مخصوص(الیٰ قولہ)فمن اشتری بضاعۃ حصل علیٰ کربون،فلو رقم کربونہ الرقم المنتخب للجائزۃ،استحق ان یجوز الجائزۃ المخصصۃ لذلک الرقم وان حکم مثل ھذہ الجوائز انھا تجوز بشروط اھ(2/238)۔
کمافی الدرالمختار: (كره بيع العذرة) رجيع الآدمي (خالصة لا) يكره بل يصح بيع (السرقين) أي الزبل خلافا للشافعي (وصح) بيعها (مخلوطة بتراب أو رماد غلب عليها) في الصحيح (كما صح الانتفاع بمخلوطها) اھ(6/385)۔
وفیہ ایضاً: ولو أكلت النجاسة وغيرها بحيث لم ينتن لحمها حلت كما حل أكل جدي غذي بلبن خنزير لأن لحمه لا يتغير اھ(6/340)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1