السلام علیکم!
(۱) ہمارے یہاں سیلز مین کی تنخواہ مقرر نہیں ہوتی، بلکہ جتنی رقم وہ پارٹیوں سے ایک ماہ میں وصول کر کے لاتے ہیں، اُس رقم کا %3.5 کمیشن اُنکومل جاتا ہے،براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنی رائے سے آگاہ کریں کہ کیا ایسا کرنا مناسب ہے کہ محنت کرنے والے کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس کو کتنی تنخواہ مل رہی ہے؟ (۲) ہم لوگ ایک ایسی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں ہم اپنے دوکاندار کو ہدف دیں گے کہ جس میں اُسے ایک مخصوص مدت میں مخصوص یا اُس سے زیادہ رقم کا مال ہم سے خریدنا ہو گا اور مال کی رقم جو بھی مدت طے ہو، چاہے ایڈوانس یا ادھار ، اس مدت میں ادا کرنی ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرنا میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ہم اس کو ڈسکاؤنٹ یا تحفہ یا دونوں طرح سے فائدہ دیں گے۔ دوکانداروں کو یہ سہولت اس وقت بھی حاصل ہوگی کہ اگر وہ ہمیں طے شدہ رقم ادا کر دے اور مال اپنی سہولت کے مطابق لیتا رہے، ایسی پالیسی اختیار کرنے میں علماءِ کرام کی قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا رائے ہے؟ مطلع فرمائیں۔ جزاک اللہ
سیلز مین کو جو کمیشن دیا جاتا ہے متعین ہونے کی بناء پر اس کا لینا درست ہے، جبکہ ایسے شخص کے لئے باضابطہ یومیہ یا ماہانہ تنخواہ مقرر کر نا زیادہ بہتر ہے۔
مذکور طریقے سے خرید و فروخت میں اگر اس چیز کی قیمت عام مارکیٹ سے زیادہ وصول نہ کی جاتی ہو تو اس صورت میں مذکور طریقہ پر دوکاندار کو فائدہ پہنچانے کی گنجائش ہے۔
کمافي الدر المختار: فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة اھ (6/ 46)-
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله أو مدة) إلا فيما استثنى: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي. (6/ 47)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1