اگر کوئی شخص یا چند افراد مل کر رمضان المبارک میں پھلوں اور سبزیوں کو منڈی سے خرید کر تقریباً ان کی اصل قیمت پر فروخت کریں اور نیت یہ ہو کہ لوگوں کو سہولت حاصل ہو اور سستی قیمت پر سامان خرید سکیں تو ایسا کرنا کیسا ہے ۔
جن علاقوں میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ قیمتوں میں واضح اضافہ کردیا جاتا ہے اور حکومتی مقرر کردہ نرخ سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہے اور جن علاقوں میں کوئی واضح اضافہ نا ہو بلکہ حکومتی مقرر کردہ کے آس پاس کی قیمتوں میں فروخت کیا جاتا ہو ، ان دونوں علاقوں کا حکم بتا دیجیے۔
ہمارے علاقے میں ایک مخیر شخص نے ایک تنظیم کو اسی مقصد کے لیے رقم (تقریباً پچاس ہزار) ادھار دی کہ رقم مجھے رمضان کے بعد واپس کردینا اور اگر رقم کچھ کم بھی ہوجائے تو کوئی اعتراض نہیں ۔
ایک صاحب کو اس ساری صورتحال پر اعتراض ہے کہ ایسا کرنا شاید درست نا ہو کہ یہ پھل فروشوں کی حق تلفی ہوسکتی ہے کہ وہ بھی کمانے کے لیے شہر آتے ہیں ۔
اس صورتحال میں راہنمائی فرمائیں ، جزاکم اللّٰہ خیرا
واضح ہو کہ معاملات میں مخلوقِ خدا سے ضرر کو دفع کرنا ایک مستحسن اور شرعاً مطلوب امرہے ،لہذا جو حضرات بازار کی عام قیمت سے زیادہ پر اشیاء فروخت کرتے ہیں انکے مقابلہ میں اگر کوئی مناسب اور بازار کی عام قیمت کے مطابق فروخت کرتا ہے تو یہ صرف جائز نہیں بلکہ مخلوق خدا سے خیر خواہی کی وجہ سےباعث اجر وثواب عمل ہے اس لئے اس پر معترض ہو نا درست نہیں جبکہ سرکاری نرخ اگر عام تاجروں کے لئے مناسب منافع رکھ کر مقرر کیے گئے ہوں اور اس سے مقصود بے تحاشا گراں فروشی کا سد باب ہونیز عام دکانداروں کوپیچھے منڈیوں کی طرف سے سرکاری نرخ کے مطابق مال مل رہا ہو تو حاکم کی اطاعت کرتے ہوئےاس پر عمل کرنا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما فی الدرالمختار: أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا أشباه من القاعدة الخامسة وفوائد شتى،(کتاب القضاء،ج:5،ص:422،مط:ایچ ایم سعید)
وفی تبیین الحقائق: الأصل في المعاملات دفعا للضرر عن العباد (کتاب الماذون ،ج:5، ص:307 ،مط:دار الکتب العلمیہ)
وفی البنایۃ : وقال الكاكي: رحمه الله: التسعير لا يحل بلا خلاف للعلماء فيه إلا في صورة تعدي أرباب الطعام فإنه لا يكره عندنا، والصواب ما ذكره الكاكي رحمه الله(کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع،ج:12،ص:217،مط:المکتبۃ الغفاریۃ)
وفی الدر المختار ایضاً: إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) وقال مالك: على الوالي التسعير عام الغلاء وفي الاختيار ثم إذا سعر وخاف البائع ضرب الإمام لو نقص لا يحل للمشتري وحيلته أن يقول له: بعني بما تحب ولو اصطلحوا على سعر الخبز واللحم ووزن ناقصا رجع المشتري بالنقصان في الخبز لا اللحم لشهرة سعره عادةقلت: وأفاد أن التسعير في القوتين لا غير وبه صرح العتابي وغيره، لكنه إذا تعدى أرباب غير القوتين وظلموا على العادة فيسعر عليهم الحاكم بناء على ما قال أبو يوسف: ينبغي أن يجوز ذكره القهستاني فإن أبا يوسف يعتبر حقيقة الضرر كما تقرر فتدبر اھ(کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع،ج:6،ص:400،مط:ایچ ایم سعید)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1