اسلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے ایک ایپ ہے جس کا نام ہے این ایف ٹی ٹریڈرز جس میں مینے تقریباً 163 ڈولر ڈالے ہے اب 24 گھنٹے میں ایک مرتبہ اس ڈولر سے مینے این ایف ٹی مطلب اس میں کوئی تصویر آتی ہے ہے پھر اس وقت اس کو سیل پر لگا دیتے ہے کبھی زیادہ منافع دیتی ہے کبھی زیادہ
تو آپ بتائیں کیا یہ جائز ہے
نان فنجیبل ٹوکن (NFT) ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے جو آن لائن اثاثوں اور حقوق کی نمائندگی کرتا ہے، جیسے تصاویر، ویڈیوز، گیمز کے کردار، میوزک اور پینٹنگز وغیرہ۔ لیکن NFT کے ذریعے ہونے والے لین دین میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں: مثلاً اکثر ناجائز چیزوں (خواتین کی تصاویر، میوزک وغیرہ) کی خرید و فروخت، حقیقی خرید و فروخت کے بجائے کمیشن اور رائلٹی پر مبنی کاروبار، مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر دکھاوے کی تجارت، اور یہ سب زیادہ تر ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہونا، جو پہلے ہی شرعی طور پر مشتبہ اور مفاسد سے بھرپورہے۔ شریعت کے مطابق خرید و فروخت اسی وقت جائز ہوتی ہے جب چیز حقیقتاً مالِ متقوم ہو، فروخت کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہو، خریدار کو اس کے تمام حقوق ملیں اور اس کا استعمال جائز ہو۔ چونکہ NFT میں یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس لیے NFT کے ذریعے خرید و فروخت اور پیسہ کمانا ناجائزہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔(ماخذ : تبویب دارالافتاء 81106)
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض»(35/7).
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد...(502/4).
وفيه أيضًا: المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعًا(501/4).
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1