کیا فرماتےہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ شریفان بی بی کے بیٹے ظفر علی اور علم دین کے درمیان ایک زمین کا جو کہ ڈھائی کنال پر مشتمل تھی عقد ہوا ، اصل زمین کی مالک شریفان بی بی تھی، جب اس سے پوچھا گیا تو انہوں نے صرف دو کنال پر رضا مندی ظاہر کی اور باقی دس مرلے کے بیجنے پر وہ راضی نہ تھی، جب پٹواری کے پاس بیان دینے کیلئے گئے، تو اس وقت بھی وہ صرف دو کنال کےبیچنے پر ہی راضی تھی، کچھ عرصہ کے بعد پتہ چلا کہ وہ زمین علم دین کے نام پر منتقل نہ ہوئی شریفان بی بی کی تصویر نہ ہونے کی وجہ سے ، جبکہ یہ عقد ظفر علی اور علم دین کے درمیان ڈھائی کنال پر خفیہ طور سے طے پایا گیا تھا ،اور شریفان بی بی کو اس کے بارے میں ڈھائی کنال کا شروع سے بھی علم تھا ،لیکن وہ دو کنال پر ہی راضی تھی ۔ اور اُن کو بھی دو کنال کے عقد کا ہی بتایا گیا تھا، ابھی آٹھ سال کے بعد علم دین صاحب اسی ڈھائی کنال کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور شریفان بی بی شروع سے اب تک دو کنال کے دینے پر ہی آمادہ ہیں، اور ظفر علی نے روپے ڈھائی کنال کے پورے لیے ہیں،کیا اُن کا مطالبہ کرنا صحیح ہے؟ اور کیا شریفان بی بی کا دس مرلے کا مطالبہ کرنا درست ہے ؟
نوٹ: یہ عقد باقاعدہ طور سے اسٹام پیپر پر لکھا گیا ہے۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مینی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ مذکور زمین شریفاں بی بی کی ملکیت ہو ،اور اس نے اس میں سے صرف دو کنال بیچنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہو، مزید دس مرلے بیچنے سے واضح طور پر انکار کیا ہو تو اس صورت میں صرف دو کنال کی حد تک تو معاملہ درست ہے، اس سے زائد کا نہیں ،اور اس کے لئے مسمیٰ ظفر علی کا اس کی اجازت کے بغیر پوری اڑھائی کنال کا سودا کرنا درست نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے اس زائد حصہ کی رقم واپس کر کے اس بیع کو فسخ کرے۔
كما في الدر المختار: (من يتصرف في حق غيره) بمنزلة الجنس (بغير إذن شرعي) (إلی قوله) (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا. (5/ 106) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1