محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
گزارش یہ ہے کہ ایک مسئلہ کے متعلق معلوم کر رہا ہوں، شریعتِ محمدیہ کے رو سے جواب عنایت فرمائیں۔
مسجد کے قریب ایک بینک یو، بی، ایل واقع ہے، بینک والوں نے مسجد انتظامیہ سے اجازت لے کر پانی کا موٹر مسجد کے کنویں میں لگایا ہے، اور بینک کو پانی مل رہا ہے، موٹر بھی بینک کی بجلی پر چل رہا ہے، صرف مسجد کا کنواں استعمال ہو رہا ہے، اور بینک والے مسجد کو ۵۰۰ روپے ماہوار دے رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ بینک والوں سے مسجد کے لئے ۵۰۰ روپے لینا اور بینک والوں کو مسجد کا پانی استعمال کرنا جائز ہے ؟ جبکہ مسجد کا کوئی نقصان نہیں, فائدہ ضرور ہے۔
اگر اس صورتِ حال سے مسجد کے نمازیوں وغیرہ کو نقصان نہ ہو، بلکہ فائدہ ہی ہو تو اس صورت میں پانی فروخت کرنا جائز ہے، مگر بینک کے ساتھ پانی دینے کا معاملہ کرنے سے اگر بدمزگی پیدا ہو رہی ہو تو اس سے احتراز بہتر ہے۔
ففي البحر الرائق؛ ولا بأس أن يشرب من الحوض والبئر ويسقي دابته ويتوضأ منه اھ (5/ 275)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1