جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
امید ہے بخیر و عافیت ہو نگے، آپ سے درجِ ذیل مسئلہ پر رائے کی ضرورت ہے:
ایک دکاندار بنام زید نے بکر کو مبلغ دس لاکھ روپیہ کی مالیت کا مال مندرجہ ذیل شرائط پر فروخت کیا:
ا: اگر ادائیگی ۳ دن کے اندر زید کو کردی گئی، تو بکر کو مبلغ دس لاکھ اور دو ہزار روپیہ کرنی ہوگی ۔
۲:اگر ادا ئیگی ایک ماہ بعد کی گئی تو ادائیگی مبلغ دس لاکھ تین ہزار روپیہ کرنی ہوگی۔
۳:اگر ادا ئیگی دو ماہ بعد کی گئی تو ادا ئیگی مبلغ دس لاکھ اور چالیس ہزار روپیہ کرنی ہوگی ۔
۴ : اگر ادائیگی ۳ ماہ بعد کی گئی تو ادا ئیگی مبلغ دس لاکھ ساٹھ ہزار روپیہ کرنی ہوگی۔
آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا مندرجہ بالا معاہدہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس معاہدہ کو کس طریقہ سے شرعی اصولوں کے مطابق بنایا جائے ؟ کیونکہ بکر رقم کی ادائیگی کے وقت کا تعین کرنے پر تیار نہیں ہے، وہ ادائیگی کے وقت کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زائد ادائیگی پر تیار ہے،فقط والسلام آپکے جواب کا منتظر
اس طرح ثمن کی تعیین کیے بغیر معاملہ کرنا ناجائز ہے، اس لئے ادھار خریداری کی صورت میں کسی بھی ایک مدت اور ثمن کا متعین کرنا ضرور ی ہے، پھر اگر ادائیگی میں تاخیر ہو جائے، تو اس پر مزید اضافی رقم وصول کرنے سے احتراز لازم ہے ۔ یہ وصولی قطعاً جائز نہیں ہوگی۔
كما في الفتاوى الهندية: رجل باع على أنه بالنقد بكذا وبالنسيئة بكذا وإلى شهر بكذا وإلى شهرين بكذا لم يجز كذا في الخلاصة (3/ 136)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1