ایک شخص کا ایک مکان ہے، دوسرا شخص اس کو ناجائز طور پر قبضے میں کیے ہوئے ہے، اور تیسرے شخص کو بیچ دیتا ہے، جس کو یہ نہیں پتا کہ یہ ناجائز ہے، اب دوسرا شخص درمیان سے غائب ہو جاتا ہے،پہلا شخص تیسرے شخص سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کا مکان اس کو واپس کیا جائے،تیسرا شخص کہتا ہے کہ جو رقم میں نے اس کو خریدنے میں خرچ کی ہے، وہ ادا کرو ،اور مکان لے لو،پہلا شخص اس پر تیار نہیں ہے ،اگر تیسرا شخص مکان کو اپنے پاس رکھتا ہے، اس مشکل میں تو کیا روز جزا اس کو عذاب ہوگا؟ میں نے سنا ہے کہ زمین جو ناجائز طور پر قبضے میں ہوگی ،وہ قیامت کے دن قابض کی گردن میں لٹکا دی جائےگی۔
مذکور مکان اگر واقعۃًپہلے شخص کی ملکیت ہے ،اور اس پر اس کے پاس قانونی کاغذات اور گواہ بھی موجود ہوں ،تو دوسرے شخص کا اسے بیچنا شرعاً باطل ہے ،اور اس طرح خریداری سے تیسرے شخص اس کا مالک نہیں بنا، اس پر لازم ہے کہ اصل مالک کو اس کو چیز دیدے ،اور بیچنے والے سے اپنی رقم وصول کرے، تیسرے شخص کا اس مکان کو اپنے پاس روکنے کی صورت میں بلاشبہ وہ گناہ گار ہوگا۔
ففی الدر المختار: (والأصح أنه) أي العقار (يضمن بالبيع والتسليم) اھ (6/ 187)۔
وفی شرح المجلة: والأصح أن الامامین یوافقان محمدؒ بالضمان فی مسئلتین غیر الثلاث المذکورات الأولیٰ إذا باع الغاصب العقار وسلمه فأنه یضمنه یکون البیع والتسلیم استھلاکاً اھ (۳/ ۴۳۹)۔
وفیھا أیضاً: لو شری أرضا فبنی او زرع اھ (إلی قوله) ولو کان البائع غائبا والمستحق آخذا المشتری یھدم بنائه فقال المشتری غرنی بائعی وھو غائب قال أبوحنیفةؒ لا یلتفت إلی قول المشتری فیؤمر بھدمه وتدفع الدار إلی المستحق اھ (۲/ ۴۶۲) واللہ أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1