کیا فرماتے ہیں علماءِدین و شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں مدرسہ عربیہ رائے ونڈ میں تعمیرات کا کام جاری ہے، ضروری صرفہ کیلئے کچھ احباب نے رقومات عطیہ کی ہیں ، معطین میں سے بعض دوستوں کا کاروبار گارمنٹس کے کپڑے بنا کر امریکہ و یورپ کے ممالک کی طرف ایکسپورٹ کرنے کا ہے ، اب کچھ دوستوں کو اشکال ہے کہ امریکہ و یورپ کے ممالک میں غیر مسلم عورتوں کے کپڑے انتہائی غیر مناسب اور غیر شرعی ہوتے ہیں ،ایسے کپڑوں کو بیچ کر منافع کمانے والے کا پیسہ مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں صرف کرنا غیر مناسب یا غیر شرعی تو نہیں ؟اور ایسے دوستوں کا پیسہ قبول کرنا تقویٰ کے خلاف تو نہیں ؟ آپ حضرات ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس مسئلہ میں ہم کیا عمل کریں؟ براہ ِکرم تفصیلی فتوی مطلوب ہے ۔
مذکور کاروبار میں اگر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو تو محض ایسے لباس کی تیاری اور اس کی فروخت ممنوع نہیں ، لہذا مذکور کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی یا منافع کو مسجد و مدرسہ کی تعمیر وغیرہ پر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
كما في أحكام القرآن للتهانوي: فاعلم أنه يستفاد من كلام الفقهاء تارة أن مدار الأمر في الاعانة وعدمها، فان نوى الاعانة على معصية حرم والأفلا، كما ذكر في مباحث النية من الأشباه والنظائر أن بيع العصير ممن يتخذه خمراً إن قصد به التجارة فلا يحرم، وإن قصد به لأجل التخمير حرم اھ (۳/٧٦) ۔
وفي الفتاوی البزازية: غالب مال المهدى إن حلالاً لا بأس بقبول هديته، وأكل ماله مالم يتعين أنه من حرام وإن غالب ماله الحرام لا یقبلھا ولایأکل أنه حلال اھ (۶/ ۳۶۰)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1